تواریخ مسجد فضل لندن — Page 170
نکلیر 152 لکھے تو دو سال تک صرف ان کے ہی مضامین سے اخبار چل سکتا ہے۔اگر نصف بھی سمجھ لیں اور تین ماہ میں پانچ صفحہ کا مضمون لکھیں تب بھی ریویو کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔اور ایسا مضمون جسے تین ماہ میں بڑی تحقیق کے ساتھ لکھے گا۔نہایت اعلیٰ درجہ کا علمی مضمون تیار ہوسکتا ہے۔اور اس طرح بھی ہوسکتا ہے کہ مثلاً ہزار صفحہ میں سے اگر 400 صفحہ بھی چھانٹ لیا جائے تو وہ نہایت اعلیٰ درجہ کے مضامین ہوں گے۔یورپ کے لوگوں میں یہ قاعدہ ہے کہ وہ ہر مضمون نہیں چھاپ دیتے۔پس جب تک ریویو میں اس قسم کے اعلیٰ مضامین نہ جو ( دین حق کے تمدن، ( دینِ حق کے اخلاق اور ( دین حق) کی سیاست اور مدنیت غرض اس کے مختلف شعبوں کے متعلق ہوں۔تب تک ( دینِ حق ) کا رُعب یورپ میں قائم نہیں رہ سکتا اور ( دینِ حق ) نہیں پھیل سکتا۔اور جو انگریزی نہیں جانتے وہ دو طرح سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ایک تو (دین حق) کی مالی خدمت میں پہلے سے زیادہ باقاعدہ ہو جائیں۔اگر صرف با قاعدگی اور اخلاص کے ساتھ فرض ادا کریں تو بھی بہت بڑے نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔اور جو لوگ سست بیٹھے ہوئے ہیں۔اور بجائے کام کرنے کے دوسروں پر اعتراض کرتے رہتے ہیں۔وہ ست بیٹھنا اور اعتراض کرنا چھوڑ دیں۔اور اس کی بجائے دعاؤں کے ساتھ کام لیں۔تجربہ بتاتا ہے کہ زیادہ تر اعتراض کرنے والے ہی کام میں سست ہوتے ہیں۔ایک مثال بھی ایسی نہیں ملے گی کہ اعتراض کرنے والا سلسلہ کی پورے طور پر خدمت بجا لاتا ہو۔آج تک ایک مثال بھی اس قسم کی نہیں ملتی۔کہ معترض کو کام کرنے کی توفیق ملی ہو۔کیونکہ اعتراض کرنے والے کے دل میں محبت اور اخلاص نہیں ہوتا۔اور محبت اور اخلاص کے ہوتے ہوئے کبھی اعتراض نہیں پیدا ہوتے۔پھر تجربہ یہ بھی بتاتا ہے کہ جب کبھی بھی اعتراضات کا سلسلہ شروع