تواریخ مسجد فضل لندن — Page 169
151 طرف سے سلسلہ کا لٹریچر ایسے رنگ میں شائع ہو کہ جس سے ان لوگوں کو سلسلہ کی طرف پورے زور سے توجہ پیدا ہو۔اور ان تک لٹریچر پہنچانے کا یہی طریق ہے کہ انگریزی دان دوست انگریزی میں مضامین لکھنے کی طرف توجہ کریں۔میں نے بہت سے دوستوں کو اس طرف توجہ دلائی تھی لیکن افسوس کہ سوائے ایک دو دوستوں کے اور کسی نے اس طرف توجہ نہیں کی۔یہ خیال کرنا کہ انگلستان کے (مناد) ہی مضامین بھی لکھیں گے۔لوگوں کو بھی ملیں گے۔ملاقاتیں بھی کریں گے۔سوسائٹیوں میں بھی شامل ہوں گے۔لیکچر بھی دیں گے۔اور رپورٹیں بھی یہاں بھیجیں گے یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ پدی آسمان کو سر پر اٹھائے یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک ہی آدمی حساب کتاب بھی رکھے۔رپورٹیں بھی بھیجے۔لیکچر بھی دے اور سوسائٹیوں میں بھی شامل ہو۔ملاقاتیں بھی کرے اور ہر وقت مکان پر بھی موجود رہے اور پھر مضامین بھی لکھے حالانکہ صرف ملاقات کرنا ہی ایک ایسا کام ہے کہ جس پر بعض دفعہ دو دو تین تین گھنٹے صرف ہو سکتے ہیں۔اور ملاقات میں ناممکن ہے کہ ایک شخص جو دُور سے گھر پر ملاقات کے لئے آیا ہے۔اسے چند منٹ مل کر وہیں چھوڑ دے۔اور دوسرے کاموں میں لگ جائے۔اور پھر باقی کاموں میں سے بھی کوئی ایسا کام نہیں جسے وہ چھوڑ سکیں۔مثلاً یہ بھی ناممکن ہے کہ وہ سوسائیٹیوں میں جانا چھوڑ دیں۔اور یہ بھی ناممکن ہے کہ وہ لیکچر چھوڑ دیں۔اور یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ بچوں کو یا اور نومسلموں کو پڑھانا چھوڑ دیں اور یہ بھی ناممکن ہے کہ ملاقاتیں چھوڑ دیں ہاں اگر ہو سکتا ہے تو یہ ہو سکتا ہے کہ ریویو کے کام کی تخفیف ان سے کی جائے۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اگر دوست ریویو میں اعلیٰ درجہ کے مضامین نکالیں تو ان کا ہاتھ بٹ جائے گا۔کیونکہ کم از کم ہماری جماعت میں ایک سو انگریزی دان دوست ہیں۔جن میں ہر آدمی بھی اگر تین صفحہ کا مضمون بھی سال بھر میں