تواریخ مسجد فضل لندن — Page 165
147 صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا ”نصرت بالجند“ کہ لشکروں کے ساتھ مجھے نصرت دی گئی ہے یہ اس لئے کہ دنیا میں جو اثر رُعب کرتا ہے وہ دنیا کی کوئی طاقت اثر نہیں کرتی۔لشکر وہ اثر نہیں کرتے جو رعب کرتا ہے اور قوت و طاقت وہ نتائج نہیں پیدا کرتی جو رعب پیدا کرتا ہے کیونکہ رُعب خیالات کو منتشر کر دیتا ہے اور تمام طاقتوں کو کمزور اور پراگندہ کر دیتا ہے پس رُعب کا دنیا کی کوئی چیز مقابلہ نہیں کرسکتی۔پنجاب میں ایک لطیفہ مشہور ہے جو بظاہر تو لطیفہ کا رنگ اپنے اندر رکھتا ہے مگر اس میں بڑی سچائی مخفی ہے مشہور ہے کہ ایک دفعہ چوہوں نے مشورہ کیا کہ یہ ملّتی جو ہر روز ہمیں تنگ کرتی ہے اس کا کوئی علاج کرنا چاہئے۔آخر یہ ہے تو ایک ہی اور اس کے مقابل ہم کافی تعداد میں ہیں، ہم اگر سارے مل کر اُس کا مقابلہ کریں اور اسے پکڑ کر ایک دفعہ اس کا فیصلہ کر دیں تو وہ ایک ہمارے مقابلہ میں کیا کر سکتی ہے اور کہاں تک ہمیں مارے گی۔کسی نے کہا میں اس کی ٹانگ پکڑ لوں گا، کسی نے کہا میں اس کی دوسری ٹانگ پکڑ لوں گا، ایک نے کہا میں اس کا منہ پکڑ لوں گا۔غرض اس طرح انہوں نے اپنے اپنے حصّہ بلی کے پکڑنے کے لئے ایک کام لے لیا اور خیال کیا کہ بس اب بلی ماری گئی۔ہم جب سارے مل کر کام کریں گے تو اس کے مارے جانے میں کیا شک ہو سکتا ہے اور بظاہر یہ درست معلوم ہوتا ہے کہ وہ واقعی میں بلی کو مارنا چاہیں تو اس طرح وہ ضرور اسے مار سکتے ہیں لیکن جو چیز انہوں نے نہیں سوچی تھی وہ بلی کا رُعب تھا اس اکیلی کا رُعب اپنے اندر اس قدر طاقت رکھتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں ہزاروں چوہوں کی طاقت کچھ حقیقت نہیں رکھتی۔اسی وجہ سے جو ان میں دانا تھا اس نے بھی یہی کہا کہ بیشک تم سب مل کر اس کو پکڑ لو گے لیکن یہ تو پہلے بتاؤ کہ اس کی میاؤں کو کون پکڑے گا کیونکہ جب وہ ابھی میاؤں ہی