تواریخ مسجد فضل لندن — Page 164
146 لئے دیتے تھے لیکن لوگ کبھی اس طرف توجہ نہیں کرتے تھے اور نہ کبھی کتابیں ہی پڑھتے تھے لیکن اب ہمارے گھروں میں آ آ کر لٹریچر مانگتے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف انگلستان میں بلکہ تمام دنیا میں سلسلہ کی طرف رغبت پیدا ہو رہی ہے۔اور ضرور ہے کہ یہ غیر معمولی اور عالمگیر رغبت اپنا رنگ لائے کیونکہ جب لوگ ہمارے لٹریچر کا مطالعہ شروع کریں گے اور ہماری باتیں توجہ سے سنیں گے تو ان کی خوشبو خود بخود ان کو متوالا کرے گی۔کوئی چیز اس وقت تک لوگوں کو اپنی طرف نہیں کھینچتی جب تک لوگ اپنی آنکھوں کو بند رکھتے ہیں اور وہ چیز پردہ اخفا میں رہتی ہے لیکن جب لوگ اس چیز کو کھولتے ہیں یا وہ خود ظاہر ہوتی ہے تو اس کی خوشبو دلوں کو مائل کرتی چلی جاتی ہے اور لوگ شکار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔جب اس افتتاح ( بیت) کی تقریب سے نہ صرف انگلستان میں بلکہ تمام دنیا میں سلسلہ کی طرف ایک زبردست رو چلنی شروع ہوئی ہے تو اب ہمارے لئے اس عذر کی کوئی گنجائش نہیں رہی کہ لوگ توجہ نہیں کرتے بلکہ اب سوال یہ باقی ہے کہ ہم ان کی توجہ سے فائدہ اُٹھا ئیں اور کس طرح اُٹھا ئیں۔دنیا میں کسی قوم کے غالب آنے کے لئے پہلی چیز یہ ہے کہ اس کا رُعب دلوں میں بیٹھ جائے۔جب رُعب بیٹھ جائے تو اس کے بعد دُنیا کو فتح کرنا آسان ہو جاتا ہے کیونکہ رُعب وہ چیز ہے جو اصلی طاقت وقوت سے بھی بہت زیادہ مفید ہے۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن چند باتوں پر فخر کیا ہے ان میں سے ایک رُعب ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں ” نصرت بالرعب" کہ میری نصرت رُعب سے ہوئی ہے۔دُور دراز کے فاصلہ پر بھی دشمن کے دل میرے خوف اور رُعب سے کانپ رہے ہیں۔آپ