تواریخ مسجد فضل لندن — Page 98
89 جستجو کریں۔اور خواہ وہ کسی مذہب میں ہو۔اُسے قبول کر لیں۔ہم اس خدا کی طرف نہ جھکیں۔جو ہمارے دماغوں نے پیدا کیا ہے۔کیونکہ خواہ ہم اس کا نام کچھ رکھیں۔وہ ایک بُث ہے۔بلکہ اس خدا کی طرف جھکیں۔کہ جو سب دنیا کا خالق ہے جس کے جلوے دنیا کے ہر ذرے میں نظر آتے ہیں۔جو اپنی زندہ طاقتیں ہمیشہ اپنے مقدسوں کے ذریعہ سے ظاہر کرتا رہتا ہے۔اور پھر اس مشرق و مغرب کے خدا پر ایمان لاتے ہوئے یہ کوششیں کریں۔کہ دُنیا میں امن و امان قائم ہو۔اور ایک ملک کے اندرونی نظام میں بھی۔اور مختلف ممالک کے درمیان بھی۔ہماری بڑائی اس میں نہ ہو۔کہ ہم اپنے مال اور طاقت کے ذریعہ سے لوگوں کو زیر کریں نہ اس میں کہ ہم اپنے جتھے کے ذریعہ سے لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کی کوشش کریں۔بلکہ ہماری بڑائی کمزور پر رحم کرنے اور حقدار کو اس کا حق دینے میں ہی ہو۔اے خدا ! تیرا جلال دنیا میں ظاہر ہو۔اور یہ (بیت) تیرے نام کو بلند کرنے اور تیرے بندوں کے دلوں میں محبت و اخلاص پیدا کرنے کا ایک بڑا مرکز ہو۔آمین۔و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ اس خطبہ کے ختم ہونے کے بعد امام نے بیت کی کنجی خان بہادر کی خدمت میں یہ الفاظ کہتے ہوئے پیش کی۔میں اپنی قلبی دعاؤں اور تمام دنیا کے لئے محبت اور ہمدردی کے جذبات سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ یہ