تواریخ مسجد فضل لندن — Page 99
90 کنجی اس لئے پیش کرتا ہوں کہ آپ اس (بیت) کا افتتاح فرما دیں۔“ خان بہادر نے چاندی کی کنجی کو امام سے لیا۔اور اس قفل میں داخل کر کے جب پھرایا تو با آواز بلند یہ الفاظ کہے۔کرتا ہوں۔“ ”خدائے رحیم و رحمن کے نام پر میں اُس کی اس عبادت گاہ کا افتتاح دروازہ کھل گیا۔اور اندر کی عمارت کی صفائی اور چمک اور نیلے فرش کی زینت نے لوگوں کی نظروں کو بے اختیار اپنی طرف کھینچا۔مگر اندر کوئی داخل نہ ہوا۔کیونکہ ابھی لیکچر (Lecture) اور سیچیں (Speeches) باقی تھیں۔جو خیموں میں ہوئی تھیں۔لوگوں میں اعلان کر دیا گیا کہ باقی کارروائی خیموں میں ہو گی۔مگر آدمیوں کی وہ کثرت تھی۔کہ بیٹھنے کو جگہ نہ ملتی تھی۔امام نے خیمے کی طرف آ کر پہلے تو ایک مختصر تقریر اس امر کے متعلق کی کہ کس طرح سلطان ابن سعود نے امیر فیصل کو ہماری دعوت پر بیت کی افتتاحی تقریب میں شامل ہونے کے لئے بھیجا اور کس طرح بعض غیر معلوم وجوہات کی بناء پر وہ اس تقریب میں شامل نہ ہوئے جس کے لئے انہوں نے ہزاروں میل کا سفر کیا تھا۔اس مختصر تمہید کے بعد امام نے اپنا ایڈریس (Address) پڑھا جو وہی ہے۔جو سنگِ بنیاد کے رکھے جانے کے موقع پر حضرت خلفیہ اسیح کی طرف سے پڑھا گیا تھا۔اور جو اوپر درج ہو چکا ہے۔ایڈریس کے ختم ہونے پر امام نے مبارکباد کے وہ تار پڑھے۔جوان کی اس تقریب پر ہندوستان کے تمام حصص اور ماریشس، امریکہ، سماٹرا وغیرہ ممالک سے بھیجے گئے تھے۔ان کے علاوہ بہت سے خطوط بھی تھے۔جن میں ہیر فاسٹر (Her Foster) ممبر پارلیمنٹ اور لارڈ لے (Lord Lee) کے