تواریخ مسجد فضل لندن — Page 154
136 عربی شہزادہ کی غیر حاضری میں لندن کی پہلی مسجد کا افتتاح شیخ عبد القادر صاحب سابق وزیر پنجاب اور حال نمائندہ لیگ آف نیشنز نے کیا۔یہ رسمی کارروائی ایسے حالات میں کی گئی جو کہ عجائبات سے بھر پور لنڈن کے لئے بھی انوکھی تھی۔مہمان آ آ کر باغیچے میں چلے جاتے تھے جہاں پولیس کا پہرہ لگا تھا۔جہاں امام نے اُن کو خوش آمدید کہا۔یہاں پر جیسا کہ سوشل اجتماعوں کے موقع پر دستور ہے۔دو بڑے بڑے شامیانے نصب تھے جس کے نیچے چائے کے میز لگے ہوئے تھے۔ہم مسجد کے سفید ر کنکریٹ (Concrete) کے بنے ہوئے چمن سے آگے بڑھے۔ادھر امام نے سریلی آواز میں قرآن شریف کی تلاوت کی اور دُعا کے چند الفاظ کے ساتھ شیخ عبد القادر صاحب کو چابی دی تو کیمروں اور ادھر سینامیٹو گرافی (Cinematography) کی مشینوں کے ایک توپ خانہ نے حرکت شروع کی۔جونہی دروازہ کھلا۔خوشبو سارے چمن میں پھیل گئی اور مومنین نے خوشی کے نعرے لگائے۔تقریروں کے ختم ہوتے ہی میناروں سے مؤذن کی دل سوز آواز مومنین کو نماز کے بلانے کے لئے سنائی دی۔کالا لباس پہنے ہوئے ایک شخص ایک مینارہ سے دوسرے مینارہ تک چلتا ہوا دکھائی دیتا تھا اور ڈسٹرکٹ ریلوں کے شور کو چیرتی ہوئی الصلوۃ الصلوۃ کی آواز آئی۔مومنین نے جس میں یورپین نو مسلم بھی تھے۔فوارہ پر وضو کیا۔منہ، ناک، ہاتھ ، کلائی اور پاؤں کو پانی سے دھویا اور جراب پہنے ہوئے سفید دیواروں والی بڑی عمارت میں سجدہ کرنے کے لئے گئے۔آذان کی آواز میناروں سے پانچ مرتبہ دن میں آیا کرے گی یعنی صبح سویرے، دوپہر ، سہ پہر، مغرب اور عشاء کے وقت۔مسجد کی موجودہ حالت میں موزوں سیڑھی کے