تواریخ مسجد فضل لندن — Page 153
135 دوستوں کو علم ہوا کہ امیر مسجد کا افتتاح کریں گے تو انہوں نے اعتراض کیا۔دوسری ممکن وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ امام کی گفتگو کو لنڈن کے ایک اخبار نے شائع کیا تھا اور اس کا غلط ترجمہ کیا گیا تھا۔امام نے یہ کہا تھا کہ ہم تمام مذاہب کے پیروؤں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ایک مصری اخبار نے اس کا مطلب یہ لیا کہ یہ مسجد ایک اسلامی مسجد نہیں بلکہ گر جا سا ہے۔اس کو بذریعہ تار بھیجا اور ابن سعود کی کارروائی اسی کے نتیجے میں ہوئی۔(16) ڈیلی کرانیکل (Daily Chronicle) مورخہ 4/اکتوبر 1926ء) مشرق و مغرب کا ایسا عجیب اور دلفریب ملاپ شاذ و نادر کبھی ہوا ہو جیسا کہ دیکھنے میں آیا جبکہ لنڈن کی لمبی تاریخ میں پہلی مرتبہ مسلمانوں کی آذان ساؤتھ فیلڈ (South Field) کے چمکدار میناروں سے سنائی دی۔موقع کی دل آویزی میں ایک نادر آمیزش ڈرامے کی بھی تھی کیونکہ آخری گھڑی تک مؤمنین کو خلاف اُمید یہ توقع تھی کہ امیر فیصل ان کی بیت کا افتتاح کریں گے۔کارروائی شروع ہونے سے کچھ عرصہ پہلے مسٹر اے۔آر۔درد کو شاہ حجاز کے فارن سیکریٹری سے یہ اطلاع ملی جو حسب ذیل ہے:۔میں بہت افسوس کے ساتھ آپ کو اطلاع دیتا ہوں کہ ہز ہائی نس امیر فیصل شمولیت نہ کر سکیں گے۔اس کے باعث ہز ہائی نس کو بہت رنج گزرا ہے اور ہر ہائی نس اور میں آپ کی کامیابی اور اس بڑی مسجد کے مبارک ہونے کے خواستگار ہیں۔ہم اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتے ہیں کہ آپ کا کام کامیاب ہو۔“