تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 152 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 152

134 امام نے کہا کہ میں کسی کی بے ادبی یا گستاخی نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ میں نے ہر میجسٹی (His Majesty) ابن سعود کو تار دی کہ وہ بیت کے افتتاح پر ایک نمائندہ بھیجیں کیونکہ وہ آج کل مقامات مقدسہ کے محافظ ہیں۔مجھے ہنر میجسٹی کی طرف سے 30 راگست کو یہ اطلاع ملی کہ ہمیں آپ کی دعوت منظور ہے۔ہمارا بیٹا اس کام کے لئے آئے گا۔ہم نے پیڈنگٹن (Pedington) اسٹیشن پر امیر کا استقبال کیا اور مجھے یقین دلایا کہ 3 /اکتوبر اس کام کے لئے نہایت موزوں دن ہے۔جب تمام بندوبست ہو چکے تو میری تعجب کی انتہا نہ رہی جب مجھے یکم اکتوبر کے اخباروں سے یہ پتہ لگا کہ امیر کو روک دیا گیا ہے۔میں نے سرکاری تصدیق کا انتظار کیا کیونکہ مجھے باوثوق بتایا گیا تھا کہ ہر میجسٹی نے ہمارے ہندوستان کو اطلاع دی ہے کہ اُن کا بیٹا ضرور شامل ہو گا۔امیر کا فارین سیکریٹری حالات واضح کرنے کے لئے مسجد میں آیا اور کہا کہ امیر کو بکتی اطمینان ہے کہ افتتاحی رسم میں شامل ہونے سے کوئی حرج نہیں۔مگر اب حالات ایسے ہو گئے کہ جتنی بھی ان کی خواہش ہو وہ شامل نہ ہو سکیں گے۔امام کو اصلی راز کا پتہ نہیں اور ان کے خیال میں امیر کو بھی اس کا علم نہیں۔یہ کہا گیا تھا کہ شاہ حجاز کو کسی نے یہ اطلاع دی ہے کہ یہ مسجد مسلمانوں کی نہیں مگر یہ صریح غلط ہے۔ڈیلی ٹیلی گراف (Daily Telegraph) کے نمائندہ کو مسٹر ملک نے یہ کہا کہ ہندوستان میں بعض لوگ ابن سعود کے ہمدرد ہیں اور وہ کٹر مسلمان ہیں اور ان میں اور ہم میں اختلاف ہے۔سب سے بڑا ختلاف یہ ہے کہ ہمارا ایمان ہے کہ خدا نے تمام قوموں میں انبیاء بھیجے ہیں اس لئے ہم مختلف مذاہب کے پیروؤں کو بھائی اور دوست سمجھتے ہیں۔ہم مذہبی تشدد کے قائل نہیں مگر ان لوگوں کا یہ عقیدہ نہیں جس میں ابن سعود بھی شامل ہے۔جونہی سلطان کے