تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 149 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 149

131 اور وینڈ زورتھ کی میونسپلٹی (Municipality) کے نمائندے اس مجمع میں حاضر تھے۔مسجد کے دروازہ کے احاطہ کے دروازہ پر یہ اعلان لگا ہوا تھا ”امیر فیصل کی خواہش کے برخلاف اس کو افتتاحی کارروائی میں حصہ لینے سے روکا گیا ہے۔ان کی غیر موجودگی میں خان بہادر شیخ عبد القادر صاحب بی۔اے بیرسٹر ایٹ لاء سابق وزیر گورنمنٹ پنجاب اور حال نمائندہ لیگ آف نیشنز افتتاح کریں گے اس پر مسٹر درد کے دستخط تھے۔مسٹر درد نے کہا کہ ہفتہ کے دن وہابی بادشاہ کے نمائندے نے ان سے کہا کہ اسے اور امیر کو پوری تسلی ہے کہ افتتاحی رسومات میں شامل ہونے سے کوئی حرج نہیں کیونکہ اسے یقین ہے کہ مغرب میں مسجد بنانے سے وہ اسلام کی خدمت کر رہے ہیں۔خان بہادر شیخ عبدالقادر نے جنہوں نے مسجد کا افتتاح کیا یہ کہا کہ ان کی رائے میں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے اور مکہ کے وائسرائے کی غیر موجودگی کا سبب فرقہ وارانہ کم ظرفی نہیں۔لندن میں مسلمان فرقوں کے جھگڑوں سے بالا ہیں۔مہاراجہ بردوان نے کہا کہ جو کچھ ہندوستان میں اس وقت ہو رہا ہے وہ ایک جلد گزر جانے والی حالت ہے اور یہ مسجد اسلام کے غیر متعصب ہونے کی دلیل ہے۔دوسرے مقرروں نے اسلامی وحدت پر زور دیا اور کہا کہ ہم فرقہ بندیوں کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔انہوں نے بڑے یقین سے اس بات کا اظہار کیا کہ مذہب کے اثر سے عالمگیر اور مستقل صلح قائم رہ سکتی ہے۔(14) ویسٹ منسٹر گزٹ (West Minister Gazette) (مورخہ 4/اکتوبر 1926ء) مسجد کا معمہ - آخری گھڑی پر شہزادہ کی دست برداری“