تواریخ مسجد فضل لندن — Page 148
130 ناگوار جانا کہ کوئی ایسا کام کیا جائے جس سے برطانیہ اور عرب کے کثیر یا قلیل حصہ کے درمیان دوستانہ راہ و رسم بڑھائے جانے کا احتمال ہو۔جنگِ عظیم میں پنجابی احمدیوں کی غیر متزلزل وفاداری اور مفید خدمات ان کو نہیں بھولے تھے۔ان کی کوششوں کو ایک بلا ارادہ مدد لنڈن کے ایک اخبار سے ملی جس نے چند دن ہوئے بمقابلہ غیر احمدیوں کے احمدیوں میں زیادہ مذہبی بردباری پائے جانے پر بہت زور دیا تھا۔یہ بیان مصر اور دیگر اسلامی ممالک کے عربی اخبارات کو اس رنگ میں پہنچا کہ جس سے یہ خیال ہوتا تھا کہ یہ نئی مسجد مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں کے لئے ہے۔اہلسنت میں سے وہابی بہت سخت ہیں۔اُن کے نزدیک تمباکو حرام ہے۔احمدیوں کے خیالات وسیع ہیں۔ان کا اثر ان کی تعداد کی نسبت سے بہت بڑھ چڑھ کر ہے۔تعلیم یافتہ مسلمان ان کے قابو میں ہیں لہذا ان کا اثر عظیم الشان ہے۔احمدیہ فرقہ اور سلطان کے اختلاف عقائد کو بار بار پیش کیا گیا ہے اور احمدیوں کی مذہبی بردباری کی غلط تعبیر کئے جانے نے اس کی تعمیل کر دی۔سلطان نے جس کام کے لئے اپنا نمائندہ بھیجا تھا اس سے اس کو روکا اس سے پتہ لگتا ہے کہ اس پر بہت بڑا اثر ہوا ہے۔دو کنگ مشن (Woking Mission) جس کو بیگم صاحبہ بھوپال بہت امداد دیتی ہیں تیرہ سال سے کام کر رہا ہے۔اس کے کارکن احمدیوں کی کوششوں سے بے تعلقی ظاہر کرتے ہیں اور ان کو فرقہ وارانہ سمجھتے ہیں۔مسجد کا افتتاح مسجد کے افتتاح کے وقت کل سہ پہر ایک بہت بڑا مجمع موجود تھا۔اس میں زیادہ تر لنڈن کے مختلف مقامات کے غیر مسلم شامل تھے۔ہندوستان اور دیگر ممالک کے مسلمان چرچ آف انگلینڈ کے پادری اور دوسرے گرجوں