تواریخ مسجد فضل لندن — Page 136
121 اور ابتدائی عیسائیت میں کوئی بڑا فرق نہیں۔ہم سب ایک خدا کی پرستش کرتے ہیں۔امام نے مجھے بہت باتوں کا علم دیا۔ازانجملہ ایک بات یہ تھی کہ احمدیہ فرقہ کی بنیاد حضرت مرزا غلام احمد صاحب نے 1880ء میں ڈالی تھی اور کہا کہ ہمارے عقائد مذہبی بُردباری کی حمایت میں ہیں اور مذہبی لڑائی اور تشدد کے سخت مخالف ہیں۔جن مذاہب میں ایک خدا کی پرستش ہوتی ہے اُن کے رسولوں کو ہم مانتے ہیں۔امام نے یہ بھی کہا کہ لنڈن میں دو ہزار مسلمان ہیں“ چونکہ ساؤتھ فیلڈ کی بیت میں صرف دو سو نمازی سما سکتے ہیں اس لئے یہ کافی نہ ہو گی۔جب میں ویسٹ ہل کے پاس سے گزر رہا تھا تو ایک نظارہ سے میں سوچ میں پڑ گیا۔لڑکیاں دوہری قطار بنائے ہوئے اور یونیفارم پہنے ہوئے خوشی خوشی جا رہی تھیں۔مجھے خیال آیا کہ مسجدان کے لئے کیا کرے گی۔امام نے مجھے تسلی دی کہ عورتوں کو مسجد میں داخل ہونے اور نماز پڑھنے کی اجازت ہے مگر مردوں کے ساتھ مل کر نہیں اور کہا کہ ہمارے ہاں عورتوں کا درجہ اس سے بہت بڑھ کر ہے جو ایشیا میں ان کو کبھی بھی نصیب ہوا ہو یہ عام خیال کہ قرآن نے عورتوں کو آئندہ زندگی سے بے بہرہ کیا ہے بالکل غلط ہے۔سورہ نمبر 4 میں لکھا ہے کہ جو کوئی نیک اعمال کرے۔خواہ مرد ہو یا عورت، جنت میں داخل ہوگا بشرطیکہ مؤمن ہو۔(8) ایوننگ اسٹینڈرڈ (Evening Standard) (مورخہ یکم را کتوبر 1926ء) لا اله الا الله محمد رسول اللہ آذان کی یہ آواز جو کہ عام طور سے صحرا میں سنائی دیتی ہے۔اب پٹنی میں سنائی دے گی۔اتوار کے دن 1 نقل بمطابق اصل