تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 135 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 135

120 گنبد دکھائی دیتا ہے۔مسجد کے چاروں کونوں پر مینارے ہیں جو مومنین کو نماز کے واسطے بلانے کے لئے استعمال کئے جائیں گے۔آج کل ہمارے گرجے بائی زینٹاین (Byzantine) طرز پر بنے ہیں اور احمدیہ بیت میں بھی چمکدار کھڑکیاں موجود ہیں۔وہ عیسائی عبادت گاہوں کی طرح دکھائی دیتی ہے۔سادہ پین اور اچھا مذاق اس میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔مسجد تقریباً مکمل ہے۔باغ کے حوض اور وضو کے فوارہ کا ابھی بھرنا باقی ہے۔دو انگریز مزدوروں کی مدد سے جو کہ دیوار کے پاس کھانا کھا رہے تھے میں نے امام مسجد کو دیکھا مسٹر درد ہندوستانی ہے، پگڑی پہنے ہے اور داڑھی رکھے ہوئے ہے اگر وہ عینک نہ پہنے ہوتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ گویا وہ الف لیلہ سے ابھی نکل کر آئے ہیں۔بہت متانت اور اخلاق سے انہوں نے مجھے مکان دکھایا۔دروازہ پر عربی اور فارسی کے کتبے ہیں جن میں لکھا ہوا ہے کہ صرف اللہ کی عبادت کرنی چاہئے اور محمد اس کا رسول ہے اس میں محمد رسول اللہ کی تکبیر یا بڑائی کی طرف اشارہ نہیں بلکہ یہ بتایا ہے کہ وہ معبود نہیں۔مسجد کے اندر ایک موٹے نیلے رنگ کی قالین ہے جس پر جوتے سمیت نہیں جاتے۔روشنی بجلی کی ہے۔کمرہ کو گرمی پہنچانے کا بندوبست کیا جائے گا۔کوئی زیبائش کی چیز مسجد کے اندر نہیں اور نہ کبھی رکھی جائے گی۔اندر کوئی کرسی نہیں۔صرف دروازہ کے پاس دونوں جانب جوتے اُتارنے کے لئے چوکیاں ہیں۔بیٹھ کر نماز پڑھنے کا خیال میرے ایشیائی دوست کے چہرے پر مسکراہٹ لے آیا۔وہاں کوئی ایسی چیز نہ تھی جس سے رسومات کا پتہ چل سکے۔صرف ایک محراب ہے جس میں کھڑے ہو کر امام نماز پڑھایا کرتا ہے۔اسلام اور یہودیت : امام نے بتایا کہ مسجد میں عیسائی، یہودی اور مسلمان سب کو واحد خدا کی پرستش کرنے کی اجازت ہے۔اسلام، یہودیت