تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 134 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 134

119 جاتے ہیں۔یہاں تک کہ قوم کی مذہبی زندگی روز افزوں ترقی پر ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ بیت کے بنائے جانے سے بعض کو صدمہ ہوا ہو گا۔اونچے میناروں سے آذان کی آواز باشندوں کے کانوں پر پڑے گی جو عجیب اور غیر مانوس ہو گی۔عبادت کا طریقہ شروع شروع میں ہمارے لئے نیا ہو گا لیکن ہم بہت جلدی اس سے مانوس ہو جائیں گے۔یہ بیت فرقہ احمدیہ نے بنائی ہے جو مذہبی بردباری کا حامی ہے اور تشدد اور مذہبی لڑائیوں کا مخالف ہے۔اس کا ایمان ہے کہ آسمانی علوم کا سرچشمہ جو قرآن شریف میں ہے سوکھ نہیں گیا بلکہ اب بھی جاری ہے۔مسجد کا افتتاح دلچسپ اور سبق آموز ہے۔(7) ریفری (Refree) (مورخہ 26 ستمبر 1926ء) و مینارہ اور موذن " خوبصورت نوجوان شہزادہ کے آنے اور لندن کی پہلی مسجد کا افتتاح کرنے سے نہ صرف مشرق و مغرب ) کا اتصال ہوگا) بلکہ افسانہ اور حقیقت کا بھی اتصال ہو گا جیسا کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔حقیقت کو پورے طور پر جاننے کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ مسجد کو اپنی آنکھوں سے دیکھا جائے جیسا کہ میں نے کیا۔عمارت بالکل سیدھی سادی خوبصورت اور گنبد والی ہے۔ایک باغیچہ میں اس کا نصف حصہ پوشیدہ۔جن لوگوں کے خیال میں مسجد کے ساتھ غرناطہ والی گل کاری اور قاہرہ یا قسطنطنیہ والی شان و شوکت ضروری چاہئے۔ان کو اس مسجد سے کسی قدر صدمہ ہوگا۔ویسٹ ہل (West Hill) کے ڈھلوانوں سے اس کا منظر بخوبی دکھائی دیتا ہے۔پہاڑ کے گردا گرد کے نظارے کے بعد عین پہاڑ کے نیچے مسجد کا سفید