تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 100 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 100

91 پیغام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔امام کی تقریر ختم ہوئی۔تو شیخ عبدالقادر صاحب نے اپنا ایڈریس انگریزی میں پڑھا جس کا ترجمہ حسب ذیل ہے۔ایڈریس جناب شیخ عبدالقادر صاحب: میں باوثوق کہہ سکتا ہوں کہ ہم سب کو شہزادہ امیر فیصل کی عدم شمولیت کی وجہ سے کچھ مایوسی ہوئی ہے۔کیونکہ ان سے اس موقع پر اپنے قابل فخر والد امیر ابن سعود کے نمائندہ کی حیثیت سے رونق افروز ہونے کی امید کی جاتی تھی۔اغلب ہے۔کہ ان کی موجودگی سے آج کے کام کی تاریخی اہمیت میں اضافہ ہو جاتا۔اور وہ لنڈن میں مسلمانوں کی سب سے پہلی عبادت گاہ کی رسم افتتاح کی انجام دہی کی یاد گار کو اپنے مقدس وطن میں اپنے ساتھ لے جاتے۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ ان واقعات کے پلٹا کھانے میں اللہ تعالیٰ کے اپنے خاص ارادہ کا دخل تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نہایت پرانے صحابی اور چچازاد بھائی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ایک نہایت لطیف مقولہ ہے: - عــرفـت ربـی بفسخ العزائم (میں نے اپنے رب کو مصمم ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا ) مجھے اس سے بڑھ کر کسی اور مشاہدہ کا علم نہیں۔جو اس سے زیادہ واضح اور سچے طور پر کسی بالا ہستی کے وجود کی صداقت پر دلالت کرتا ہو۔۔یہ ایک حقیقت ہے۔جو اسلامی تاریخ کے مطالعہ کرنے والوں پر خوب ظاہر ہے کہ اسلام کی ابتدا کمزور طبقہ میں ہوئی۔عرب کا پیغمبر اعظم جو دُنیا کے لئے زندہ کرنے والا پیغام لایا۔ایک یتیم تھا۔جس کے بہت دوست نہ تھے اور جس کو ایک عرصہ تک اپنے مُریدوں کی چھوٹی سی جماعت پر اپنی شوکت کا سارا دارو مدار رکھنا پڑا۔پس وہ ہدایت جو ان کے ذریعہ پھیلائی گئی۔اس کی طاقت کا