تواریخ مسجد فضل لندن — Page 84
77 گئی تھی۔مگر اس وقت بھی کسی کو معلوم نہ تھا کہ افتتاح کون کرے گا۔اور صرف ایک گھنٹہ باقی رہ گیا۔تو ایک پیغامبر یہ خط امیر کی طرف سے لایا۔23 اکتوبر 1926 ء بخدمت عالی مولوی عبدالرحیم صاحب درد امام مسجد۔(اکتوبر سہو کتابت ہے۔ستمبر ہونا چاہئے۔مرتب) بعد سلام و تکریم کے میں نہایت افسوس سے جناب کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ ہز ہائی نس شہزادہ فیصل اس مسجد کی افتتاح کی تقریب میں شامل نہیں ہوسکیں گے۔جو آپ نے تعمیر کی ہے۔شہزادہ والا تبار کو خود اس بات کا بہت رنج ہے۔اور امیر اور میں دونوں دل سے آپ کی کامیابی اور اس عظیم الشان مسجد کے لئے ہر طرح کی برکات اور آبادی کی خواہش کرتے ہیں۔اور ہم خدا سے دُعا کرتے ہیں۔کہ آپ کی محنت کو کامیابی کا سہرا چڑھائے۔میری طرف سے بہت بہت سلام اور نیاز قبول فرماویں۔آپ کا خیر اندیش عبدالله الدملوجی جو پیغامبر یہ خط لایا تھا۔وہ چونکہ شاہ حجاز کا دوست اور نہایت معزز انسان تھا اس سے پھر بھی یہ دیکھا نہ گیا کہ ایسا زرین موقع اور شہرت کا وقت سلطان کے ہاتھ سے یوں نکل جائے۔اس لئے اس نے پھر ایک دفعہ آخری کوشش کرنے کی اپنے دل میں ٹھان لی۔وہ خان بہادر اور شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کو ایک موٹر میں بٹھا کر پھر ہائڈ پارک ہوٹل میں پہنچا۔تاکہ کسی طرح امیر اور اس کے فارن منسٹر ڈبلو جی اپنی ذمہ داری پر اس افتتاح کی