تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 35 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 35

31 دفعہ چندہ دے کر پھر دوبارہ جوش آنے پر اپنے بچوں کی طرف سے چندہ دینا شروع کیا۔پھر بھی جوش کو دیتا نہ دیکھ کر اپنے وفات یافتہ رشتہ داروں کے نام سے چندہ دیا۔کیونکہ جوش کا یہ حال تھا کہ ایک بچہ نے جو ایک غریب اور محنتی آدمی کا بیٹا ہے، مجھے ساڑھے تیرہ روپے بھیجے کہ مجھے جو پیسے خرچ کے لئے ملتے تھے ان کو میں جمع کرتا رہتا تھا وہ میں سب کے سب اس چندہ کے لئے دیتا ہوں۔نہ معلوم کن کن اُمنگوں کے ماتحت اس بچہ نے وہ پیسے جمع کئے ہوں گے لیکن اس کے مذہبی جوش نے خدا کی راہ میں ان پیسوں کے ساتھ ان اُمنگوں کو بھی قربان کر دیا۔مدرسہ احمدیہ کے غریب طالب علموں نے جو ایک سو (100) سے بھی کم ہیں اور اکثر ان میں سے وظیفہ خوار ہیں ساڑھے تین سو روپے (350) چندہ لکھوایا۔ان کی مالی حالت کو مدنظر رکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے کئی ماہ کے لئے اپنی اشد ضروریات کے پورا کرنے سے بھی محرومی اختیار کر یہ حال عورتوں اور بچوں کا تھا جو بوجہ کم علم یا قلت تجربہ کے دینی ضروریات کا اندازہ پوری طرح نہیں کر سکتے تو مردوں کا کیا حال ہو گا اس سے خود خیال کیا جا سکتا ہے کہ بڑی تعداد ایسے آدمیوں کی تھی جنہوں نے اپنی ماہوار آمد نیوں سے زیادہ چندہ لکھوا دیا جن میں سے ایک معقول تعداد ان لوگوں کی تھی جنہوں نے تین تین چار چار گنا چندہ لکھوا دیا۔بعض لوگوں کا حال مجھے معلوم ہوا کہ جو کچھ نقد لى۔۔