تواریخ مسجد فضل لندن — Page 36
32 پاس تھا انہوں نے دے دیا اور قرض لے کر کھانے پینے کا انتظام کیا۔ایک صاحب نے جو بوجہ غربت زیادہ رقم چندہ میں داخل نہیں کر سکتے تھے نہایت حسرت سے مجھے لکھا کہ میرے پاس اور تو کچھ نہیں میری دوکان کو نیلام کر کے چندہ میں دے دیا جائے۔لوگوں نے بجائے آہستہ آہستہ ادا کرنے کے زیورات وغیرہ فروخت کر کے اپنے وعدے ادا کر دیئے۔امرتسر اور لاہور کی جماعتوں نے بھی خاص ایثار سے کام لیا۔۔۔اس رفتار سے میں سمجھتا ہوں کہ گورداسپور، امرتسر اور لاہور اور دوسرے مقامات کے چندے مل کر تمیں ہزار (30000) کی رقم جس میں نے شروع میں اعلان کیا ان تین ضلعوں ہی سے پوری ہو جائے گی اور احمدیوں کے اخلاص کو دیکھتے ہوئے میں ڈرتا ہوں کہ اس سے دوسری جماعتوں کو سخت صدمہ ہوگا کیونکہ ایسے اعلیٰ درجہ کے ثواب کا موقعہ ان کے ہاتھوں سے نکل جائے گاپس میں اعلان کی رقم کو بڑھا کر ایک لاکھ کر دیتا ہوں تا کہ تمام جماعت ہائے احمد یہ اپنے اخلاص کا اظہار کر سکیں اور ثواب حاصل کرنے کا موقعہ پائیں۔“ اس تحریک کا بیرونی جماعتوں میں پہنچنا تھا کہ ایک تلاطم اور جوش برپا ہو گیا۔ایک صاحب نے قادیان میں حضرت خلیفہ اسیح ثانی کی خدمت میں تار بھیجا کہ آپ دُعا کریں خدا تعالیٰ مجھے اپنے مقصد میں کامیاب کرے اس کے شکریہ میں میں ولایت میں احمد یہ بیت بنانے پر جس قدر خرچ ہو گا سارا خود ادا کروں گا۔حضور نے فرمایا کہ میں نے اس بات کو منظور نہیں کیا تاکہ