تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 32 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 32

28 مناسبت دینی سچائیوں کے ساتھ بہت کم رہی ہے گویا خدا تعالیٰ نے دین کی عقل تمام ایشیاء کو دے دی اور دنیا کی عقل تمام یورپ اور امریکہ کو۔نبیوں کا سلسلہ بھی اوّل سے آخر تک ایشیاء ہی کے حصہ میں رہا اور ولایت کے کمالات بھی انہیں لوگوں کو ملے۔اب خدا تعالیٰ ان لوگوں پر نظر رحمت ڈالنا چاہتا ہے۔“ (ازالہ اوہام) اس کشف میں منبر کا لفظ ایک۔۔۔( بیت) کے وجود پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اسلامی دنیا میں صاف طور پر بیت کی وہ جگہ جہاں امام یا خطیب اپنا خطبه حاضرین بیت کو سُنا تا ہے منبر کہلاتا ہے۔(3) تیسری پیشگوئی وہ کشف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہے جسے حضور اپنی کتاب تریاق القلوب صفحہ نمبر 40 میں اس طرح بیان فرماتے ہیں:۔”میرا پہلا لڑکا جو زندہ موجود ہے جس کا نام محمود ہے ابھی وہ پیدا نہیں ہوا تھا جو مجھے کشفی طور پر اس کے پیدا ہونے کی خبر دی گئی اور میں نے بیت کی دیوار پر اس کا نام 66 لکھا ہوا پایا کہ محمود اس کشف سے حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کی ذات کا ایک بہیت سے تعلق ظاہر ہوتا ہے جو اب اس بیت کے ظہور میں آنے سے پورا ہوا۔اور پھر ایسا ہوا کہ اس بیت کی دیوار پر کتبہ میں آپ کا نام لکھا جانے سے کامل طور پر لفظاً پورا ہو گیا۔فالحمد اللہ علی ذلک۔(4) چوتھی پیشگوئی بیت کے متعلق خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام میں تھی آپ کو خدا تعالیٰ کی وحی میں متعدد جگہ ابراہیم نام دے کر آپ کی مماثلت حضرت ابوالانبیاء سے ظاہر کی گئی۔قرآن کریم اور تاریخ کہتی ہے کہ