تواریخ مسجد فضل لندن — Page 24
22 قادیان سے ممبئی تک کے ہندوستان کے الوداعی نظارے اور دمشق اور لنڈن کی پُر جوش خیر مقدم صرف دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔اخبارات نے سفید عمامے والے نائب مسیح اور اس کے سبز عمامہ والے بارہ حواریوں کی تصویریں مع سلسلہ کے حالات اور خصوصیات کے دنیا کے گوشہ گوشہ میں پہنچا دیں۔لنڈن وکٹوریا اسٹیشن (Victoria Station) سے آپ اور آپ کی جماعت ہوتی ہوئی سینٹ پال St۔Paul) کے عظیم الشان اور انگلستان کے سب سے بڑے گرجا کے سامنے پہنچی۔اور اس کے سامنے ٹھہر کر خدائے ذوالجلال سے ( دین حق ) و توحید کی فتح کی دُعا کر کے شہر میں داخل ہوئی۔مکان آپ کے لئے نہایت معزز محلہ میں پہلے سے لیا گیا تھا وہاں سب لوگ فروکش ہوئے۔اس مکان کا نام Chesham Palace-6 تھا۔مذہبی کانفرنس کے مضمونوں اور پرائیوٹ ملاقاتوں اور پبلک لیکچروں اور پھر اس پر نعمت اللہ خان شہید کے سنگسار ہونے کے تازہ واقعہ نے اس موقعہ پر لنڈن کو ہلا دیا اور ہر طرف جماعت احمدیہ کا چرچا ہونے لگا باوجود اس کے کہ حضور کے قیام کا زمانہ تعطیلات کا اور آخری پارلیمنٹ کے الیکشن کا تھا۔پھر بھی اس وفد کی طرف انگلستان کے لوگوں کی وہ توجہ ہوئی جو فوق العادت کہی جانی چاہیے اور اس قدر عظمت سلسلہ کی قائم ہوئی جو کروڑوں روپیہ کے خرچ اور ہر طرح کے رسوخ سے بھی نا ممکن تھی یہ معلوم ہوتا تھا کہ کسی غیبی ہاتھ نے لوگوں کو اس طرف پھیر دیا ہے۔القصہ جب اکثر کام حضور سرانجام دے چکے تو آخر میں بیت کے سنگ بنیاد رکھنے کی باری آئی۔یہ کام بھی محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہایت شاندار اور پر اثر طریقہ سے ہوا جس کا ذکر تفصیلی طور پر انشاء اللہ آگے آئے گا۔بیت کے سنگ بنیاد رکھنے کے بعد حضور مع اپنے قافلہ خدام کے نومبر میں