تواریخ مسجد فضل لندن — Page 14
12 خدا کے لئے ہے۔وہ خدا کے ہیں۔اور خدا ان کا ہے۔وہ اپنے بھائیوں کے رنج و راحت میں برابر کے شریک ہیں۔اور سب کے سب اپنے آقا خلیفہ وقت کے ہاتھ پر اپنے تئیں بکا ہوا سمجھتے ہیں۔اس کے ایک اشارہ پر وہ اپنے جان و مال اور دنیا کے آرام پر لات مار کر ہر تکلیف کو اُٹھانے کے لئے مستعد رہتے ہیں۔بہتوں نے اپنے وطن گھر۔رشتہ داروں ، ملازمتوں ،زمینداریوں، تجارتوں بڑے بڑے فوائد کی قربانی کر کے قادیان میں ڈیرے لگائے ہیں۔ان میں ایک جماعت نو مسلموں کی بھی ہے جو ہندوؤں سکھوں ،عیسائیوں اور دیگر اقوام سے علیحدہ ہو کر (دین حق) کے حلقہ بگوش ہوئے ہیں۔بہت سے ہیں جو اپنی بیبیوں ، چھوٹے چھوٹے بچوں کو چھوڑ کر برسوں کے لئے غیر ملکوں میں اشاعت (دین) کے لئے جاتے رہے ہیں۔بہت سے ہیں جنہوں نے اپنی جائدادیں اور آمدنیاں اشاعت (دین) کے لئے دے دی ہیں۔بکثرت ایسے ہیں جنہوں نے اپنی اولاد کو صرف دین کی خدمت کے لئے خدا کے لئے نذر کر دیا ہے۔اور بہت سے تعلیم یافتہ نوجوان ایسے ہیں جو اپنی زندگی کو پورے طور پر خدمت دین کے لئے وقف کر چکے ہیں۔خواہ ان سے کوئی کام لیا جائے۔وہ اپنی محنت سے کمائیں گے مگر کام سلسلہ کا کریں گے۔ہر جماعت کے ہر فرد نے اپنے ذمہ اتنا چندہ لگایا ہے کہ دنیا میں کوئی اور جماعت اس کا نمونہ نہیں دکھا سکتی۔ہر روپیہ کے پیچھے ایک آنہ۔اور ہر من غلہ کے پیچھے ڈھائی سیر غلہ کم سے کم شرح ہے۔بہت ہیں جو اپنی آمدنی کا دسواں حصہ دیتے ہیں۔بہت سے پانچواں ،کئی تیسرا۔اور ایسے بھی نمونے ہیں۔جو گویا اپنا پیٹ کاٹ کر بھی خدا کی راہ میں دیتے ہیں۔انہوں نے افغانستان میں خدا کی رضا کے لئے اپنی جانیں دیں۔انہوں نے غیر ممالک اور ہندوستان میں ہر طرح کے ظلم ہے۔قیدیں کاٹیں ، فاقے سہے، ان کو مارا گیا ، جلا وطن کیا گیا۔ان کے مالی۔