تواریخ مسجد فضل لندن — Page 147
129 یہ کہا جاتا ہے کہ اس اپیل میں ابن سعود کے ایک گہرے انگریز دوست کی مدد استعمال کی گئی ہے۔امیر کا اسٹاف ہمیں کچھ نہ بتا سکا کہ اس اپیل کا کیا اثر ہو گا۔بیت کی افتتاحی رسم کی ادائیگی خان بہادر شیخ عبدالقادر کے حصہ میں آئی جو پنجاب کونسل کے پریذیڈنٹ رہ چکے ہیں اور لیگ آف نیشنز (League of Nations) کے اجلاس میں ہندوستانی نمائندہ ہیں۔شاہ حجاز ونجد کا فیصلہ اس وجہ سے زیادہ تعجب انگیز ہے کہ بہت عرصہ پیشتر یعنی ماہ اگست میں انہوں نے اس کام کے لئے وائسرائے (Viceroy) مکہ کو اپنے نمائندہ کی حیثیت سے بھیج دینا منظور کیا تھا اور اس بات کی تحقیقات کی تھی کہ احمدیہ مذہب کا اسلام کی راسخ الاعتقادی کے ساتھ کیا تعلق ہے۔اس بات کے باور کرنے کے لئے دلیل موجود ہے کہ جونہی اس کام کے لئے امیر کے انگلستان جانے کا اعلان کیا گیا تو ہندوستان کے بعض مسلمانوں نے اس ناخوشگوار واقعہ کے پیدا کرنے کی بہت کوشش کی جو ظہور میں آیا۔سلطان ابن سعود کو بہت تار اس مضمون کے ملے کہ احمدیوں کے اعتقادات ملحدانہ ہیں اور جن باتوں کو وہابی بہت اہم جانتے ہیں ان کو یہ غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ابتداء میں یہ کوشش کارگر نہ ہوئی اور سلطان اپنی رائے پر قائم رہا۔اگر چہ مسجد ایک چھوٹے فرقہ کی ہے لیکن تاہم اس کا سلطنت برطانیہ کے دارالخلافہ میں قائم ہونا اسلام کے لئے ایک مبارکبادی کا کام ہے اور مقاماتِ مقدسہ کے وائسرائے کی شمولیت کا ایک نہایت موزوں موقع ہے۔یہ رائے سلطان کی پالیسی کے عین مطابق تھی کہ حجاز میں حج کرنے والوں کو خواہ وہ کسی فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں داخل ہونے کے لئے انتہا درجہ کی آزادی دی جائے۔اس شور و شر کے اُٹھانے سے بعض مسلمانوں کا مقصد زیادہ تر پولیٹیکل (Political) تھا جو لوگ انگریزوں کے برخلاف تھے انہوں نے اس بات کو