تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 10 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 10

8 قبول کرنے والے موجود ہیں۔اور ان سے بہت بڑھ کر وہ تعداد ہے جو دل میں اس کی صداقت پر یقین رکھتی ہے مگر کسی وجہ سے ظاہر میں اعلان نہیں کر سکتی۔یہ وہ ذات بابرکات تھی جس نے اپنا کام پورا کرنے کے بعد 1908 میں وفات پائی۔اور ان کے بعد ان کے پہلے جانشین اور خلیفہ حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب مقرر ہوئے جو قریباً چھ سال تک اپنا کام کر کے 1914 میں واصل بحق ہوئے۔آپ ہی کے زمانے میں خلافت کے منصب کو مضبوط کیا گیا تبلیغی وفود کا سلسلہ شروع کیا گیا۔اور سب سے پہلا مبلغ جماعت احمدیہ کا انگلستان میں بھیجا گیا تفصیل اس کی آئندہ آئے گی۔انشاء اللہ تعالیٰ۔ان کے بعد حضرت مسیح موعود کے صاحبزادے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد سریر آرائے خلافت ہوئے۔ان کے زمانے میں انضباط سلسلہ کا وسیع اور مضبوط پیمانہ میں کیا گیا۔دائرہ تبلیغ کو نہایت وسیع کیا گیا۔ہر شاخ میں با قاعدگی اور انتظام قائم کیا گیا۔بہت سے نئے محکمات کھولے گئے۔ہر طرح سے آرگنائزیشن (Organisation) کو عمل میں لایا گیا اور انہی کی مساعی جمیلہ کا نتیجہ ہے کہ 1926 میں ہم ایک مکمل ( دینی بیت) کا شاندار گنبد شہر لنڈن کے وسط میں دیکھ رہے ہیں۔جہاں سے اللہ اکبر کا دل گرما دینے والا نعرہ پانچ وقت اہل انگلستان کے کانوں تک پہنچایا جاتا ہے۔سلسلہ احمدیہ کے لوگ جن کا مرکز قادیان ہے۔زیادہ تر ہندوستان میں ہیں۔پنجاب میں خصوصیت سے ان کی کثرت ہے۔مگر دیگر حصص ہندوستان میں بھی قریباً ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔اس کے سوا افغانستان، ایران، روس ، چین ،سماٹرا، آسٹریلیا، مصر، عرب، عراق، مغربی افریقہ، کینیا، ماریشس، امریکہ اور انگلستان میں بھی احمدی جماعت قائم ہے۔افغانستان میں تو اس جماعت کے پانچ آدمی اور مصر میں عبد الجلیل نامی