تأثرات — Page 84
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 78 خدمات کر رہے ہیں اور یہ کالج علاقہ کے لیے بہت مفید ہے۔نیز انہوں نے بتایا کہ اس کالج کی غیر معمولی خدمات ہیں۔یہاں کے پڑھے ہوئے اعلیٰ عہدوں تک پہنچے ہیں اور یہاں کا معیار تعلیم بہت بلند ہے۔یہاں کے اساتذہ بے لوث اور محنتی ہیں اور اپنے طلبا کی ٹھیک ٹھیک راہنمائی کرتے ہیں۔2۔سینیٹر موسے (Muse) کا خطاب: سینیٹر مو سے (Muse) نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو نائیجریا میں خوش آمدید کہا اور صحت کے میدان میں جماعت احمدیہ کی خدمات کو سراہا اور جماعت کے ہسپتالوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ کس طرح جماعت احمد یہ بنی نوع انسان کی خدمت کر رہی ہے۔موصوف نے احمدی ڈاکٹروں کی خدمات کا بھی بھر پور انداز میں تذکرہ کیا اور بتایا کہ صحت کے میدان میں جماعت احمد یہ بے لوث خدمات بجالا رہی ہے جس کی کوئی نظیر کہیں دوسری دنیا میں نہیں ملتی۔3۔نائیجیریا میں سیرالیون کے سفیر کا خطاب: ان کے بعد سیرالیون کے ایمبیسیڈر جناب الحاج ایم پی بائیو صاحب نے بھی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو خوش آمدید کہا اور اپنے مختصر خطاب میں سیرالیون میں جماعت احمدیہ کی تاریخ اور خدمات کا تذکرہ بڑے خوب صورت رنگ میں کیا اور صحت اور تعلیم دونوں میدانوں میں جماعت کی خدمات کو سراہا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصوف مخلص احمدی ہیں اور نائیجیریا میں سیرالیون کے سفیر ہیں۔خطاب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے سلسلہ خطاب کو جلسہ کے افتتاحی خطاب یعنی خطبہ جمعہ فرمودہ 2 مئی 2008 ء سے جوڑتے ہوئے اخلاق فاضلہ کی طرف توجہ دلائی جن میں سب سے اول حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے کامل اطاعت اور فرماں بردار مسلمان بن جانے کی تلقین فرمائی کہ حقیقی مسلمان وہ ہے جو کامل فرماں برداری اختیار کرتا ہے اور اپنی اور ساتھیوں کی بھلائی چاہتا اور حقوق العباد ادا کرتا ہے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہمیں بتایا گیا ہے کہ صرف مسلمان ہو جانے سے خوش نہ ہوں بلکہ اپنے گناہوں کی معافی مانگتے چلے جائیں۔مسلمان رہنے اور سچا مسلمان بننے کے لیے اعلیٰ اخلاق کا ہونا بہت ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ ان رستوں پر چلا جائے جن کی طرف قرآن کریم ہدایت کرتا ہے۔“ الفضل انٹرنیشنل 27 جون تا 3 جولائی 2008 ء صفحہ 10)