تأثرات

by Other Authors

Page 81 of 539

تأثرات — Page 81

تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 75 میں خریدا تھا۔یہ قطعہ ارضی ابوجہ سے شمال کی طرف Keffi Road پر واقع ہے۔امسال اس نئی جگہ کا افتتاح بھی تھا اور اسی جگہ جلسہ سالانہ منعقد کیا جارہا تھا۔گویا اس جگہ پر پہلا جلسہ سالانہ منعقد کیا جا رہا تھا۔اس سے قبل ملک کے جنوب میں Ilaro کے مقام پر جلسہ منعقد ہوا کرتا تھا۔موجودہ جلسہ گاہ Ilaro سے آٹھ سو (800) کلومیٹر دور ملک کے وسط میں واقع ہے۔پہلی بار نائیجیریا کے شمال میں واقع جماعتوں نے کثیر تعداد میں جلسہ سالانہ میں شرکت کی توفیق پائی کیونکہ ان کو یہ جگہ نزدیک پڑتی ہے۔اس جلسہ میں نو مبایعین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔صد سالہ خلافت جو ہلی جلسہ سالا نہ نائیجیریا: 2 مئی 2008 ء کو نائیجیریا کی تاریخ کا وہ اہم دن تھا جب نائیجیریا کا صد سالہ خلافت جوبلی جلسہ سالانہ شروع ہوا۔جیسے ہی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ جلسہ گاہ میں تشریف لائے تو فلک شگاف نعروں سے آپ کا استقبال کیا گیا۔لوائے احمدیت لہرانے کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دعا کروائی اور پھر خطبہ جمعہ کے ساتھ جلسہ کا آغاز فرمایا۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطاب میں جلسہ سالانہ کے مقاصد بیان کیے اور احباب جماعت کو اعلیٰ اخلاق اپنانے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: ایک احمدی مسلمان مؤمن کا فرض ہے کہ سب سے پہلے اپنی نمازوں کی حفاظت کریں۔اپنی نمازوں کو اپنے اندر دوسری اخلاقی تبدیلیوں کا پیمانہ بنائیں یا اپنے اعلیٰ اخلاق کو اپنی نمازوں کی قبولیت کا پیمانہ سمجھیں۔اگر ہمارے اخلاق اعلیٰ نہیں ہور ہے، اگر ہم اس زمانے کی برائیوں سے بچنے کی کوشش نہیں کر رہے تو ہم مجاہدہ نہیں کر رہے۔ہم اپنی نمازوں کی حفاظت نہیں کر رہے۔پس ہر احمدی کو ہمیشہ یادرکھنا چاہیے کہ پاک تبدیلی پیدا کرنے کے لیے جو مجاہدہ کرنا ہے اس میں سب سے پہلے خالص ہو کر خدا تعالیٰ کی عبادت اور نمازوں کی ادائیگی ہے۔دُعاؤں اور ذکر الہی کی طرف توجہ ہے۔پھر اپنی توفیق کے مطابق صدقہ و خیرات کرنا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ صدقہ و خیرات بھی بلاؤں کو دُور کرتا ہے۔آج اس زمانے میں دنیا داری، اخلاقی گراوٹ، ایک دوسرے کے حقوق کا خیال نہ رکھنا، اللہ تعالیٰ کی حقیقی عبادت سے غافل رہنا۔ان سے بڑی اور کون سی بلا ہوگی جو ہماری زندگیوں کو تباہ کر رہی ہے۔پس جس کو جتنی توفیق ہے صدقہ و خیرات کرے اور دکھاوے کے لیے نہ کرے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے کرے۔جو کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے کیا جائے وہ یقینا اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کا درجہ پانے والا ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نیتوں کے مطابق انسان سے سلوک