تأثرات

by Other Authors

Page 44 of 539

تأثرات — Page 44

تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 39 کے بینن میں قیام کے تعلق میں تمام مساعی کو مکمل پریس کو ریج دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔(8) وزیر خزانه و اقتصادی امور ، وزیر رابطہ برائے ادارہ جات و حکومتی Spokesman کے لیے ایک رقم مختص کریں گے جس کا فیصلہ کیا جائے گا۔“ الفضل انٹرنیشنل لندن 6 تا 12 جون 2008ء صفحہ 9) 23 اپریل 2008 ء کو جب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ ببین کے بارڈر Same پہنچے تو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی آمد سے قبل ہی نائیجیریا اور بین بارڈر کے دونوں طرف امیگریشن کی کارروائی مکمل کی جا چکی تھی۔نائیجیریا کے پولیس افسران نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے شرف مصافحہ پایا اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے اپنی طرف سے بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان کا شکریہ ادا کیا۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا بینن میں ورود اور شایان شان استقبال: جب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے نائیجیریا کا بارڈر پار کر کے بین کی سرزمین پر قدم رکھا تو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا پر تپاک استقبال کیا گیا۔اَهْلًا وَّ سَهْلًا وَ مَرْحَبًا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ کی آوازیں چاروں طرف سے آرہی تھیں۔بچیاں مسلسل خیر مقدمی گیت پڑھ رہی تھیں۔استقبال کرنے والوں میں امیر صاحب جماعت ہائے احمد یہ بین اور حکومت کی طرف سے وزیر مملکت برائے رابطہ ادارہ جات نے سرزمین بینن کے باسیوں ، عمائدین ، حکومت اور صدر مملکت کی طرف سے خوش آمدید کہا۔ان کے علاوہ بین کے تیس سے زیادہ بادشاہ بھی بارڈر پر موجود تھے اور اپنے پیارے امام کی راہ تک رہے تھے۔زمین و آسمان کی نگاہوں نے اس دن ایک عجیب نظارہ دیکھا کہ ایک طرف حکومت بینن (Benin) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے استقبال میں اپنے دل بچھائے بیٹھی تھی تو دوسری طرف بیٹن کے بادشاہ اور عوام اپنی روایتی شان و شوکت کے ساتھ بین کی سرزمین پر قدم رکھنے والے اس روحانی بادشاہ کے سامنے بزبان حال یہ اظہار کر رہے تھے کہ وہ بادشاہ آیا۔بارڈر پار کر کے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ وی آئی پی لاؤنج میں تشریف لے گئے جہاں حکومت بینن (Benin) کے نمائندہ وزیر نے حکومت کی طرف سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو خوش آمدید کا پیغام پیش کیا۔وی آئی پی لاؤنج میں ٹیلی ویژن، ریڈیو اور اخبارات کے نمائندگان کثیر تعداد میں موجود تھے کہ قدم رکھنے کو جگہ ب تھی ہر کوئی اس کوشش میں مصروف تھا کہ اس تاریخی موقع کا لمحہ لمحہ کیمروں اور الفاظ میں محفوظ کر لیا جائے۔