تأثرات — Page 342
304 تأثرات_خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء محسوس ہوا گویاوہ اچانک آیا ہے۔اُس روز خدا کی تقدیر نے اپنی ایک مجسم قدرت کو اپنے پاس بلالیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش خبریوں کے مطابق دین محمدی کی تجدید اور شریعت محمدی کے قیام کے لیے مبعوث ہونے والے مسیح و مہدی بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام اپنے مفوضہ کام کی تکمیل کے بعد اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَّ يَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ اور اس طرح جماعت کے احباب کے دل جو جاننے کے باوجود یقین کرنے پر آمادہ نہ تھے ایک گہری اُداسی میں ڈوب گئے اور خدا تعالیٰ کی وہ بات پوری ہوئی کہ ”بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں اس دن سب پر اداسی چھا جائے گی۔قَرُبَ أَجَلُكَ الْمُقَدَّرِ جماعت احمدیہ اور جماعت کے احباب بظاہر بے سہارا اور یتیم رہ گئے۔غم نے انہیں از خود رفتہ بنادیا اور دنیا ان کی نظر میں اندھیر ہوگئی مگر جیسا کہ خدائے قادر ومقتدر نے اپنے مسیح کو پہلے سے ہی خبر دے دی تھی۔27 مئی یعنی حضور کے وصال کے اگلے ہی روز غم زدگان کا قافلہ دردمند دلوں کے ساتھ اپنی متاع عزیز کو کاندھوں پر لیے قادیان پہنچا اور اسی روز شام کے وقت قادیان کی مقدس نبستی میں خدا تعالیٰ کی دوسری قدرت کا ظہور ہوا اور جماعت احمدیہ کے افراد نے حضرت مولانا حکیم نورالدین کے مبارک ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے کر اطاعت، فرمانبرداری اور وفاداری کا عہد کیا اور خدا کی قدرت کے ہاتھ نے بے قرار دلوں کو قرار بخشا، غم زدوں کے دلوں پر سکینت اور اطمینان اور تسلی کا مرہم رکھا اور جماعت ایک نئے حوصلہ، نئے ولولہ اور نئے عزم اور ارادے کے ساتھ اپنے راستہ پر گامزن ہوگئی۔ہم افراد جماعت احمدیہ پاکستان اس بات کے گواہ ہیں کہ اس روز سے آج کے دن تک خدا تعالیٰ نے اپنی غالب قدرت کے ساتھ اس پودے کی حفاظت اور آب یاری کی جسے اس نے 27 مئی 1908ء کو اپنے ہاتھ سے قادیان میں لگا یا تھا۔ہم اس بات کے بھی گواہ ہیں کہ گزرنے والی صدی کے ہر لمحہ اور ہر آن یہ پودا پروان چڑھتا رہا اور اب خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی مدد سے وہی پودا ایک عظیم الشان اور تناور درخت بن چکا ہے جس کی شاخیں قادیان سے باہر دنیا کے پونے دوصد سے زائد ممالک پر سایہ فگن ہیں جن کے راحت بخش سائے میں کروڑوں روحیں آرام پارہی ہیں۔ہم پاکستان کے احمدی اس بات کی بھی شہادت دیتے ہیں کہ گزشتہ ایک صدی میں