تأثرات — Page 93
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء ہے کہ ہم حضور انور کو دوبارہ اپنے ملک میں بھی ملیں۔“ 87 الفضل انٹر نیشنل 27 جون تا 3 جولائی 2008 ء صفحہ 13) دور ونزدیک کے مختلف ممالک سے جوق در جوق آنے والے شمع خلافت کے یہ پروانے ، یہ جاں شاران شمع خلافت اپنی خوش بختی پر نازاں و فرحاں دکھائی دے رہے تھے۔ہر کوئی اپنے جذبات کی رو میں بہ رہا تھا۔بعض تو اپنے جذبات کے اظہار سے قاصر تھے لیکن ان کے دلوں کی کیفیات ان کے چہروں پر نظر آنے والا جوش اور آنسوؤں کی حدت عیاں کر رہی تھی کہ ان کے سینے کس طرح اپنے پیارے آقا کی محبت میں بریاں و گریاں ہیں اور ان کی آنکھوں کے کشکول دید کی خیرات پاتے پاتے بھر رہے ہیں اور پھر بھی تشنہ ہیں لیکن ہرلمحہ برکتیں سمیٹتے جارہے ہیں۔احمد یہ موومنٹ نائیجیریا کے چیف امام کی حضور انور ایدہ اللہ سے ملاقات: 1940ء میں نائیجیریا کے امیر احمد یوں کا ایک گروپ بن گیا اور انہوں نے اس وقت کے امیر جماعت ہائے احمد یہ نائیجیریا اور مبلغ انچارج سے کسی بات پر ناراضگی کی وجہ سے جھگڑا کیا تو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ یا تو نظام جماعت کی اطاعت کرو یا پھر جماعت سے باہر ہو جاؤ اس پر یہ لوگ اپنی بنائی ہوئی مساجد سمیت جماعت احمدیہ مبایعین سے الگ ہو گئے تھے۔اس جلسہ کی برکت سے وہ بھی فیض حاصل کرنے کے لیے پہنچے اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے از راہ شفقت انہیں ملاقات کا وقت دیا۔دو افراد پر مشتمل یہ وفد آٹھ سو کلومیٹر کا سفر طے کر کے لیگوس سے پہنچا تھا۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے انہیں 4 مئی 2008ء کو نماز فجر کے بعد ملاقات کا وقت دیا اور فرمایا کہ: اب تو ہر چیز روشن اور واضح ہو کر سامنے آرہی ہے۔آپ یہاں نائیجیریا میں بھی دیکھ رہے ہیں اور دنیا میں بھی دیکھ رہے ہیں۔اس لیے اب ضد چھوڑ دیں اور واپس آجائیں کیونکہ جماعت کی ترقی اور برکات خلافت سے وابستہ ہیں۔خدا تعالیٰ سے دعا کریں اور راہنمائی مانگیں اور اب اس بارہ میں سوچیں۔“ الفضل انٹرنیشنل 4 تا 10 جولائی 2008 صفحہ 16) یہ لوگ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی باتیں غور سے سنتے اور اثبات میں سر ہلاتے رہے۔ان سے ملاقات کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔