تأثرات — Page 513
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء بادشاہت کے قیام کا ضامن ہوگا۔474 خلافت دنیا میں رسالت کی قائم مقام ہوتی ہے اور نبوت کے کاموں کی تکمیل کے لیے ہی خلافت کو علی منہاج نبوت پر قائم کیا جاتا ہے۔چنانچہ خلافت احمد یہ حقہ اسلامیہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد منہاج نبوت پر قائم کیا گیا تا کہ دین کی اشاعت کے جو کام ہنوز تکمیل طلب ہیں ان کو مکمل کر دیا جائے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: خلیفہ جانشین کو کہتے ہیں اور رسول کا جانشین حقیقی معنوں کے لحاظ سے وہی ہو سکتا ہے جو ختمی طور پر رسول کے کمالات اپنے اندر رکھتا ہو اس واسطے رسول کریم نے نہ چاہا کہ ظالم بادشاہوں پر خلیفہ کا لفظ اطلاق ہو کیونکہ خلیفہ درحقیقت رسول کاظل ہوتا ہے اور چونکہ کسی انسان کے لیے دائمی طور پر بقا نہیں۔لہذا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ رسولوں کے وجود کو جو تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف و اولیٰ ہیں ظلی طور پر ہمیشہ کے لیے تا قیامت قائم رکھے۔سو اسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا تا کہ دنیا کبھی اور کسی زمانہ میں برکات رسالت سے محروم نہ رہے۔“ (شہادۃ القرآن۔روحانی خزائن جلد 6 - صفحہ 353) آج ہم بڑے فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو کام ہمارے سپرد کیا ہے وہ اس کے فرشتوں کی مدد سے دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے اور خلافت احمدیہ کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے غلبہ اسلام کے کاموں کی رفتار تیز تر فرما دی ہے۔ترقی اسلام کے کام آج تیزی کے ساتھ آگے سے آگے بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ہم میں سے ہر ایک، کیا بچہ اور کیا بڑا، کیا عورت اور کیا مرد، اس بات کا گواہ ہے کہ جو برکات ، خلافت کی بدولت جماعت احمدیہ کو عطا ہوئی ہیں اُن سے دوسرے یکسر محروم ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: جماعت کے اتحاد اور شریعت کے احکام کو پورا کرنے کے لیے ایک خلیفہ کا ہونا ضروری ہے اور جو اس بات کو ر ڈ کرتا ہے وہ گویا شریعت کے احکام کو ر ڈ کرتا ہے۔صحابہ کا عمل اس پر ہے اور سلسلہ احمدیہ سے بھی خدا تعالیٰ نے اسی کی تصدیق کرائی ہے۔جماعت کے معنی ہی یہی ہیں کہ وہ ایک امام کے ماتحت ہو۔جولوگ کسی امام کے ماتحت نہیں وہ جماعت نہیں اور ان پر خدا تعالیٰ کے وہ فضل نازل نہیں ہو سکتے اور کبھی نہیں ہو سکتے جو ایک جماعت پر ہوتے ہیں۔“ کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے انوار العلوم جلد 2 صفحہ 13) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ایک اور جگہ فرماتے ہیں: خلافت ایک الہی نعمت ہے۔کوئی نہیں جو اس میں روک بن سکے۔وہ خدا تعالیٰ کے نور کے قیام کا ذریعہ ہے جو اس کو مٹانا چاہتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے نور کو مٹانا چاہتا ہے۔ہاں وہ