تأثرات — Page 514
تأثرات_خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء ایک وعدہ جو پورا تو ضرور کیا جاتا ہے لیکن اس کے زمانے کی لمبائی مومنوں کے اخلاق سے وابستہ ہے۔"6 475 الفضل 23 ستمبر 1937ء۔صفحہ 15) حضرت خلیفہ المسح الثالث رحم اللہ تعالی فرماتے ہیں : میں آپ کو وضاحت کے ساتھ بتانا چاہتا ہوں کہ جس شخص کو بھی اللہ تعالیٰ آپ کا خلیفہ بنائے گا اُس کے دل میں آپ کے لیے بے انتہا محبت پیدا کر دے گا اور اُس کو یہ توفیق دے گا کہ وہ آپ کے لیے اتنی دعائیں کرے کہ دعا کرنے والے ماں باپ نے بھی آپ کے لیے اتنی دُعائیں نہ کی ہوں گی اور اس کو یہ بھی توفیق دے گا کہ آپ کی تکلیفوں کو دور کرنے کے لیے ہر قسم کی تکلیف وہ خود برداشت کرے اور بشاشت سے کرے اور آپ پر احسان جتائے بغیر کرے کیونکہ وہ خدا کا نوکر ہے آپ کا نوکر نہیں ہے اور خدا کا نوکر خدا کی رضا کے لیے ہی کام کرتا ہے کسی پر احسان رکھنے کے لیے کام نہیں کرتا لیکن اُس کا یہ حال اور اس کا یہ فعل اس بات کی علامت نہیں ہے کہ اس کے اندر کوئی کمزوری ہے اور آپ اس کی کمزوری سے ناجائز فائدہ اٹھا سکتے ہیں وہ کمزور نہیں ، خدا کے لیے اس کی گردن اور کمر ضرور جھکی ہوئی ہے لیکن خدا کی طاقت کے بل بوتے پر وہ کام کرتا ہے۔ایک یا دو آدمیوں کا سوال ہی نہیں میں نے بتایا ہے کہ ساری دنیا بھی مقابلہ میں آجائے تو اُس کی نظر میں کوئی چیز نہیں۔“ ( خطبات ناصر جلد 1 صفحہ 494 خطبہ جمعہ 18 نومبر 1966ء) حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: دو پس کامل بھروسہ اور کامل تو کل تھا اللہ کی ذات پر کہ وہ خلافت احمدیہ کو کبھی ضائع نہیں ہونے دے گا ہمیشہ قائم و دائم رکھے گا، زندہ اور تازہ اور جوان اور ہمیشہ مہکنے والے عطر کی خوشبو سے معطر رکھتے ہوئے اس شجرہ طیبہ کی صورت میں اس کو ہمیشہ زندہ و قائم رکھے گا جس کے متعلق وعدہ ہے اللہ تعالیٰ کا کہ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ تُؤْتِي أكُلَهَا كُلَّ حِيْنِ بِاِذْنِ رَبِّهَا (ابراهيم: 25 و 26) کہ ایسا شجرہ طیبہ ہے جس کی جڑیں زمین میں گہری پیوست ہیں اور کوئی دنیا کی طاقت اسے اُکھاڑ پھینک نہیں سکتی۔یہ شجرہ خبیثہ نہیں ہے کہ جس کے دل میں آئے وہ اسے اُٹھا کر اسے اُکھاڑ کے ایک جگہ سے دوسری جگہ پھینک دے۔کوئی آندھی، کوئی ہوا اس ( شجرہ طیبہ ) کو اپنے مقام سے ٹلا نہیں سکے گی اور شاخیں آسمان سے اپنے رب سے باتیں کر رہی ہیں اور ایسا درخت نو بہار اور سدا بہار ہے۔ایسا عجیب ہے یہ درخت کہ ہمیشہ نو بہار رہتا ہے کبھی خزاں کا منہ نہیں