تأثرات — Page 507
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء حرف آخر 468 اللہ تعالیٰ کا ہزار درہزار شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس زمانہ میں پیدا کیا جس میں حضرت امام مہدی اور مسیح موعود علیہ السلام کا ظہور ہوا اور اس سے بھی بڑھ کر اس احسان کا شکر کہ اس برگزیدہ کو ماننے کی توفیق بھی عطا فرمائی اور ہمیں ایمان اور ایقان میں بڑھایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی آمد کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ تعجب کا مقام نہیں بلکہ ہزار درہزار شکر کا مقام اور ایمان اور یقین کے بڑھانے کا وقت ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے وعدہ کو پورا کر دیا اور اپنے رسول کی پیش گوئی میں ایک منٹ کا بھی فرق پڑنے نہیں دیا اور نہ صرف اس پیش گوئی کو پورا کر کے دکھلایا بلکہ آئندہ کے لیے بھی ہزاروں پیشگوئیوں اور خوارق کا دروازہ کھول دیا۔اگر تم ایمان دار ہو تو شکر کرو اور شکر کے سجدات بجالاؤ کہ وہ زمانہ جس کا انتظار کرتے کرتے تمہارے بزرگ آبا گزر گئے اور بے شمار رُوحیں اُس کے شوق میں ہی سفر کر گئیں وہ وقت تم نے پالیا۔اب اس کی قدر کرنا یا نہ کرنا اور اس سے فائدہ اُٹھانا یا نہ اُٹھانا تمہارے ہاتھ میں ہے۔میں اس کو بار بار بیان کروں گا اور اس کے اظہار سے میں رُک نہیں سکتا کہ میں وہی ہوں جو وقت پر اصلاح خلق کے لیے بھیجا گیا تا دین کو تازہ طور پر دلوں میں قائم کر دیا جائے۔“ (فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ نمبر 6 و7 ) آج ہم خدا تعالیٰ کا شکر اسی طرز پر ادا کرتے ہیں جس طرز پر ہمیں تعلیم دی گئی اور ہماری تربیت کی گئی ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کرتا کہ اپنے وعدہ اِنْ شَكَرْتُمْ لَا زِيدَنَّكُمُ کے مطابق وہ ہمیں اموال اور نفوس میں زیادہ بڑھائے اور ہم اپنے مال اور نفوس زیادہ سے زیادہ اُس کے حضور پیش کرنے والے ہوں اور نیکی اور تقوی میں پہلے سے بڑھ کر ترقی کرنے والے اور پاکیزگی اختیار کرنے والے ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح پاک علیہ السلام کو ایک پاک اطاعت گزار اور محبت کرنے والی جماعت عطا فرمائی اور آپ علیہ السلام کی حیات مبارکہ میں ہی آپ علیہ السلام کے ایسے مریدوں کی تعداد لاکھوں تک جا پہنچی جنہوں نے آپ علیہ السلام کے ہاتھ پر توبتہ النصوح کی۔چنانچہ مارچ 1906ء میں تحریر کی جانے والی اپنی ایک تصنیف لطیف تجلیات الہیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام رقم طراز ہیں: ”سوالے سننے والو! تم سب یادرکھو کہ اگر یہ پیش گوئیاں صرف معمولی طور پر ظہور میں آئیں تو تم سمجھ لو کہ میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں لیکن ان پیش گوئیوں نے اپنے