تأثرات — Page 30
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008 ء 30 آئیوری کوسٹ سے آنے والے وفد کا ہر ایک فرد اپنے آقا کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب دکھائی دیا۔ان کے روشن چہرے اور ترسی ہوئی نگاہیں دن رات اپنے آقا کا دیدار کرنے کو ترستی نظر آتی تھیں۔ایک شخص کو جب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے مصافحہ کی سعادت ملی تو وہ روتا جاتا تھا اور کہتا جاتا تھا کہ میں کتنا خوش نصیب ہوں کہ آج مجھے خلیفہ اسیح کا نہ صرف دیدار نصیب ہوا بلکہ حضور کے ساتھ میرا جسمانی رابطہ بھی قائم ہو گیا اور اس بات نے مجھے لطف و سرور سے بھر دیا ہے۔جلسہ سالانہ گھانا کے ان بابرکت ایام میں ہر قوم فیض کے اس نورانی چشمے سے سیراب ہوئی اور عشق و محبت اور فدائیت اور جان شاری کی ہمیشہ قائم رہنے والی لازوال داستانیں رقم ہوئیں۔رشک آتا ہے مکرمہ ہبہ زونگو (Haba Zongo) صاحبہ پر ! مرحومہ اینگرور یجن آئیوری کوسٹ سے تعلق رکھتی تھیں۔جلسہ سالانہ گھانا پر اپنے آقا سے ملنے کے لیے آئیں اور وہیں وفات پاگئیں۔مرحومہ کے خاوند آدم اگیرو (Adam Agiro) اور بھائی نے بتایا کہ مرحومہ باوجود شدید بیماری کے گھانا کے جلسہ میں شرکت کے لیے آئیں اور کہا کہ میں نے جلسہ سالانہ گھانا میں شامل ضرور ہونا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ میں خلیفہ وقت سے ملاقات کر کے واپس نہیں آپاؤں گی اس لیے میری غلطیاں معاف کر دیں۔چنانچہ بیماری کی حالت اور سخت گرم موسم میں کٹھن اور لمبا سفر طے کر کے اپنے آقا سے ملاقات کے شوق میں گھانا آئیں اور بامراد ہوکر مَنْ قَضَى نَحْبَۂ کے تحت اپنے حقیقی مولا کے حضور حاضر ہوگئیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور وہیں باغ احمد میں ان کی تدفین ہوئی۔3 گیمبیا گیمبیا کے عشاق کا تذکرہ بھی سنہرے حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔گیمبیا سے بائیس احباب پر مشتمل ایک وفد جس میں چار خواتین شامل تھیں ، 11 اپریل 2008 ء کو ایک بس کے ذریعہ روانہ ہوا اور پانچ دن افریقہ کے اس گرم موسم میں دن رات سات ہزار کلو میٹر کا سفر طے کر کے جلسہ سالانہ گھانا کے لیے پہنچا۔یہ لوگ گیمبیا سے سینی گال پہنچے اور ساراملک عبور کر کے مالی میں داخل ہوئے۔مالی کا ساراملک عبور کر کے بُرکینا فاسو میں داخل ہوئے اور اس ملک کو بھی لمبے سفر کے بعد عبور کیا اور گھانا پہنچے۔گھانا پہنچ کر بھی ایک لمبے سفر کے بعد بارغ احمد تک پہنچے۔یہ لوگ جلسہ گاہ تک پہنچے تو تھکن سے پو راور سفر کی شدت سے نڈھال تھے لیکن جیسے ہی اُن کی نظریں حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے چہرہ نورانی پر پڑیں اُن کی ساری کلفت اور تھکن جاتی رہی۔سفر کی تلخی بختی اور تکلیف انہیں بھول گئی۔اُن میں ایک نیا جوش اور جذ بہ اور ولولہ دکھائی دینے لگا۔ایک دوست نے اپنا تا ثر بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلی بار حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے براہ راست دیدار کی توفیق پارہا ہے اس لیے یہ تو ممکن ہی نہیں کہ اس کیفیت کو لفظوں میں بیان کیا جاسکے لیکن حیرت کی بات تو یہ ہے