تأثرات

by Other Authors

Page 28 of 539

تأثرات — Page 28

28 تأثرات_خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008 ء ایک خادم نے نمائندہ ٹی۔وی کے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ میں اپنے خلیفہ سے ملنے جا رہا ہوں۔دوسرے نے کہا کہ احمدیہ خلافت جوبلی کی سو سالہ تقریبات میں ہمارے خلیفہ آرہے ہیں، ان میں شامل ہونے جارہا ہوں۔جب فدائیان خلافت احمدیہ کے سائیکل سواروں کا یہ قافلہ وا گا ڈوگو سے اکرا کے لیے روانہ ہوا تو پولیس نے اس قافلہ کی گزرگاہ کی ساری ٹریفک کو عارضی طور پر روک دیا تا کہ یہ قافلہ آسانی کے ساتھ بغیر کسی رکاوٹ کے گزر جائے۔سڑک کے دونوں طرف ہجوم خلائق تھا اور احمدی سائیکل سواروں نے خلافت احمدیہ کے بینرز اٹھا رکھے تھے اور نعرے بھی لگا رہے تھے۔لوگوں پر اس کا ایسا اثر ہوا کہ ان کے چہروں پر ایک حیرانگی ہو ید تھی کہ یہ کس قسم کے فدائی لوگ ہیں؟ گھانا میں بھی پریس اور میڈیا نے اس وفد کا استقبال کیا اور وسیع پیمانے پر اس کی اشاعت کی۔اس وفد کا بہت ہی نیک اثر عوام الناس پر پڑا۔جہاں جہاں سے یہ وفد گزرا ایک تو جماعت احمدیہ کا تعارف لوگوں میں ہوا اور دوسرے افریقن احمدیوں کی فدائیت اور عزم صمیم کا لوگوں نے کھلے بندوں اعتراف کیا۔چنانچہ وزارت یوتھ کے جنرل سیکریٹری نے کہا کہ وہ اس بات کا گواہ ہے کہ احمدی نوجوان عزم رکھتے ہیں۔دوران دورہ مختلف مقامات پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے دیدار اور مصافحہ کی بھی ان لوگوں نے انفرادی طور پر سعادت پائی لیکن 18 اپریل 2008ء کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وفود کی شکل میں بھی شرف ملاقات بخشا۔چنانچہ 18 اپریل 2008ء کو چار ہزار سے زائد احباب جماعت کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شرف نصیب ہوا جن میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں تھا کہ جسے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے مصافحہ کرنے کا شرف حاصل نہ ہوا ہو۔یہ سبھی لوگ بڑے تکلیف دہ اور لمبے سفر کر کے اپنے پیارے آقا کے دیدار کو حاضر ہوئے تھے۔چنانچہ سب نے دل کھول کر ان برکات کو سمیٹا۔سوادا گوسالف صاحب صدر جماعت احمد یہ وایو گیا مصافحہ کا شرف پاتے ہی اپنا ہاتھ جسم پر پھیرتے جاتے اور کہتے جاتے کہ میں نے روحانیت کو پالیا ہے، ڈوری کے ایک باسی نے کہا کہ سفر کی ساری کلفت دور ہوگئی اور ہمارا مقصد پورا ہوگیا کہ ہم یہی برکات لینے آئے تھے جو ہمیں مل گئی ہیں، ایک صاحب یہ کہتے جاتے کہ نور ہی نور ہے۔آج مجھے بہت مزا آیا، میں آج بے حد خوش ہوں، بورکینا فاسو سے آنے والے ایک ڈرائیور مصافحہ کے بعد کہنے لگے کہ میں دو (2) دن تک کسی کے ساتھ ہاتھ نہیں ملاؤں گا تا کہ برکت نہ جاتی رہے۔سو یا گاؤں کے ھمیا بکری صاحب نے کہا کہ آج حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے مل کر میری زندگی کا مشن مکمل ہو گیا اب مجھے کسی چیز کی خواہش نہیں رہی جو مجھے ملنا تھامل گیا ہے۔