تأثرات — Page 359
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء پاکستان کے مختلف اضلاع اور شہروں میں تقریبات: 321 پاکستان میں تمام جماعتوں نے صد سالہ خلافت جو بلی کے مبارک موقع پر اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ مختلف پروگرام منعقد کرنے کی توفیق پائی۔مختلف اضلاع نے ضلعی سطح پر اور مقامی جماعتوں نے مقامی سطح پر اور ذیلی تنظیموں نے تنظیمی سطح پرعلمی اور عملی پروگرام، جلسہ ہائے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، جلسہ ہائے یوم مسیح موعود علیہ السلام، جلسہ ہائے یوم مصلح موعودؓ ، یوم خلافت، جلسہ ہائے پیشوایان مذاہب اور دیگر علمی و ورزشی پروگرام منعقد کیے۔ہر ایک پروگرام کی بنیاد مسابقت الی الخیر پر رکھی گئی اور ابتدا دعا سے کی گئی۔اللہ تعالیٰ کے فصل محض سے چھوٹی سے چھوٹی جماعت اور بڑی سے بڑی جماعت نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق بہترین رنگ میں یہ پروگرام منعقد کرنے کی توفیق پائی۔بعض مقامات پر احباب جماعت نے اپنے غم بھلا کر بھی خلافت جو بلی کے پروگراموں کو اہمیت دی اور خوشیاں منائیں۔مثلاً گوٹھ بشیر آباد ضلع حیدرآباد کے ایک نو جوان مکرم انور مصطفے صاحب ایک حادثے میں زخمی ہو کر کراچی میں زیر علاج تھے کہ عین 27 مئی 2008 ء کو نماز فجر کے وقت ان کی وفات ہوئی اور صبح نو بجے ان کی میت بشیر آباد پہنچ گئی۔اس دن بشیر آباد کے لوگوں نے ایک حیرت انگیز نظارہ دیکھا جس سے انہیں اندازہ ہوا کہ احمدی احباب کو جماعت اور خلافت کے ساتھ ایسی وابستگی ہے کہ نہ مال سے ہے اور نہ اولاد سے ہے۔ہوا یوں کہ مکرم انور مصطفے مرحوم کے والد صاحب نے صدر جماعت احمدیہ بشیر آباد کو پیغام بھجوایا کہ آپ خلافت جو بلی کے پروگرام جاری رکھیں ان میں تعطل نہیں آنا چاہیے۔چنانچہ خلافت جو بلی کے حوالے سے نہ صرف چراغاں کیا گیا بلکہ انور مرحوم کے والد نے یہ بھی شکوہ کیا کہ ان کے گھر پر چراغاں کیوں نہیں کیا گیا؟ بہر حال سارے دن کے پروگرام طے شدہ پروگرام کے تحت منعقد کیے گئے۔غیر از جماعت احباب افسوس کرنے مکرم انور مرحوم کے والد کے پاس آتے اور اس امر پر حیرت کا اظہار کرتے تھے کہ ساری جماعت شیرینی تقسیم کر رہی ہے اور خود انور مرحوم کے بھائی بھی صد سالہ خلافت جو بلی کی خوشی میں مٹھائی تقسیم کر رہے ہیں تو آپ کس قسم کے لوگ ہیں جو اپنے عزیز کی وفات پر خلافت جو بلی کے پروگراموں کو ترجیح دے رہے ہیں؟ - رپورٹ آمده از امیر صاحب ضلع حیدرآباد ) ضلع لاہور کے حلقہ ماڈل ٹاؤن کی مسجد بیت النور میں ایک پادری صاحب سمیت کئی غیر از جماعت احباب کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطاب سننے کی دعوت دی گئی تھی اور احباب تشریف بھی لائے۔ان سب احباب نے حضور انور کا مکمل خطاب سنا اور بہت متاثر ہوئے۔پادری صاحب نے جاتے ہوئے ان جذبات کا اظہار کیا کہ : میں مرزا مسرور احمد صاحب کے خطاب سے بہت متاثر ہوا ہوں۔“ 66 رپورٹ آمده از امیر صاحب ضلع لاہور )