تأثرات — Page 17
تأثرات_خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008 ء 17 گئی۔جماعتوں نے یکم جنوری 2008ء کے دن کی ابتدا اجتماعی نماز تہجد کی ادائیگی اور دعاؤں سے کی اور اس کے بعد آنے والے دنوں میں اللہ تعالیٰ سے تضرعات کے سلسلے بڑھنے لگے۔راتوں کا قیام لزوم اور دوام پکڑ گیا اور خشوع و خضوع سے لبریز ہوتا چلا گیا۔اس بابرکت یوم کا انتظار شدت سے ہونے لگا جس میں اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے پورا ہونے کا وقت قریب سے قریب تر آتا دکھائی دیتا تھا۔گویا بقول حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ: سن رہا ہوں قدم مالک تقدیر کی چاپ ہیں مری بگڑی کے بنانے والے رہے 2008ء ! خلافت جوبلی کے بابرکت سال کا آغاز ہو گیا اور احمدی خدا تعالیٰ کے حضور زیادہ حضوری کے ساتھ جھکنے لگے۔ہر جماعت میں ، ہر ملک میں روز بہ روز دن بہ دن خلافت جو بلی کے پروگراموں کی رونقیں بڑھنے لگیں۔کہیں یوم خلافت کے موضوع پر سیمینار ہو رہے تھے تو کہیں خلافت کے موضوع پر شعر وسخن کی محفلیں سجائی جارہی تھیں۔کہیں اسلام احمدیت کی ترقی کے لیے دعائیں ہو رہی تھیں تو کہیں ذیلی تنظیموں کے اجلاسات اور مقابلہ جات ہورہے تھے۔کہیں جماعتی سطح پر پروگرام منعقد کیے جا رہے تھے تو کہیں مرکزی سطح پر کہیں جلسہ ہائے سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے روشن پہلوؤں کی تصویر کشی کی جا رہی تھی تو کہیں خلفائے راشدین کی سوانح اور فضائل اُجاگر کیے جا رہے تھے۔کہیں سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جلسے منعقد کیے جا رہے تھے تو کہیں آپ علیہ السلام کے خلفا کی سیرت کے حسین اور دل کش پہلو ہمارے ایمان و ایقان میں جوش بھر رہے تھے۔گویا کوئی ایک بھی احمدی مرد وزن خواہ چھوٹا تھا یا بڑا۔خادم تھا یا طفل۔ناصر تھی الجنہ یا ناصر ہر کوئی ہر پروگرام میں دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے عہد کی پاس داری میں مصروف تھا۔اپنے ذاتی کام کاج چھوڑ کر سبھی احمدی اِس تاریخی اور تاریخ ساز دن کا انتظار کر رہے تھے کہ جس کو کوئی خوش نصیب ہی دیکھ سکتا تھا اور جو اس دن کو پالیتا وہ تو انتہائی خوش نصیب ہی ہوتا۔احمدی اپنی خوش نصیبی پر نازاں و فرحاں اللہ تعالیٰ کے حضور عجز وانکسار میں بڑھتے ہی چلے جارہے تھے۔خلافت جو بلی کے پروگراموں میں جلسہ ہائے سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور یوم مسیح موعود پر جلسے، یوم مصلح موعود رضی اللہ عنہ ، یوم خلافت اور پیشوایان مذاہب پر مقامی طور پر جلسے اور مرکزی پروگرام اور دیگر ممالک کے جلسہ ہائے سالانہ شامل تھے۔ان تمام پروگراموں میں کیسے جانے والے خطابات اور تقاریر کے لیے صد سالہ خلافت احمد یہ جو بلی کی مرکزی کمیٹی نے حضرت اقدس خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہدایات کے مطابق اُردو اور انگریزی میں سیر حاصل مواد تقریباً سال بھر پہلے ہی تیار کر کے