تأثرات — Page 335
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء اونچا لہرانے لگے۔اے خدا! تو ہمیں اس عہد کو پورا کرنے کی توفیق عطا فر ما اللهم آمين۔اللهم ا اللهم آمين تاثرات: 66 297 28 مئی 2008 ء کی شام کور بوہ کے گلی کوچے ان گنت جھنڈیوں سے سجائے گئے تھے۔مٹی کے دیے جلائے گئے تھے گلی کوچوں میں تاحد نگاہ گھروں اور منڈیروں پر جلتے ہوئے دیے ایک عجیب پر شوکت ماحول پیدا کر رہے تھے۔گزشتہ دنوں سے سر شام ہی ہوا چل پڑتی تھی لیکن اس شام اللہ تعالیٰ کی قدرت خاص اور فضل سے ہوا تھم چکی تھی تا کہ اہل ربوہ کے جلائے ہوئے دیے کہیں بجھ نہ جائیں۔جماعت کے مرکزی دفاتر ،محلہ جات کی بیوت الذکر کو اندر باہر سے سجایا گیا تھا۔اہلِ ربوہ اس منفرد چراغاں کو دیکھنے کے لیے گھروں سے باہر نکل آئے اور انتہائی پر امن طریق پر اس جشن کو ملاحظہ کیا اور اس کا حصہ بن گئے۔مناظر کو دیکھنے والے آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ خلافت احمد یہ اور خلیفہ وقت کے ساتھ کروڑوں احمدیوں کی بے لوث محبت اور فدائیت ایک خدا داد اور بیش بہا ایسی دولت ہے جس سے ہر ایک احمدی کا دل مالا مال ہے۔حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: اس ہفتے ، چند دن پہلے ، 27 مئی کو ہم نے اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان سے یوم خلافت منایا۔جیسا کہ میں اپنی تقریر میں بیان کر چکا ہوں اس سال کے یوم خلافت کی ایک خاص اہمیت تھی۔یہ ایسا یوم خلافت تھا جو عموماً ایک انسان کی زندگی میں ایک دفعہ ہی آتا ہے۔یاکسی کی بہت لمبی زندگی ہوتو اس کی شعور کی زندگی میں ایک دفعہ آتا ہے سوائے اس کے کہ اللہ تعالی کا خاص ہی کسی پر احسان ہو اور وہ صیح طرح پورے شعور کی زندگی میں ہو اور لمبی عمر کے ساتھ اس کے اعضا بھی اس قابل ہوں اور مضمحل نہ ہوئے ہوں۔تو بہر حال یہ ہم پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں جماعت احمدیہ کی ، نہ صرف یہ جو ہت سارے ایسے احمدی ہیں ان کو خلافت جو بلی دکھائی بلکہ جماعت احمدیہ کی ایک سو میں سالہ تقریباً زندگی ہے اس پر تسلسل کے ساتھ جماعت کی دو مختلف جو بلیاں دیکھنے کا موقع فراہم فرمایا۔اور اس حوالے سے ہر احمدی اللہ تعالیٰ کے حضور شکر اور احسان کے جذبات سے لبریز ہے۔جماعت احمدیہ کی بنیاد کی پہلی صدی 1989ء میں آج سے أنيس (19) سال پہلے ہم نے منائی۔اس سال ہم نے جیسا کہ ہم سارے جانتے ہیں خلافت احمدیہ کے حوالے سے، اس کے قیام کے حوالے سے،سوسالہ تقریب اظہار تشکر