تأثرات

by Other Authors

Page 333 of 539

تأثرات — Page 333

تأثرات_خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 295 دُعا کروائی جس کے بعد اس تاریخی خطاب کے لیے حضور انور ہال میں تشریف لے آئے۔شوکتِ الہام سے منزہ ، حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا یہ خطاب آسمان سے اُتر تا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔عہد وفائے خلافت : خصوصاً دُعاؤں اور برکات سے بھر پور پرسوز ماحول میں ساری جماعت نے حضور انور کا خطاب سنا اور خدا کے فضلوں اور رحمتوں کے ساتھ اپنی جھولیاں بھریں۔حضور انور کے اس جلالی خطاب کے دوران ہر آنکھ اشک بار تھی اور دل تھے کہ حمد باری تعالیٰ سے لبریز سنبھالے نہیں سنبھلتے تھے ، خوشی سے اچھلتے پھرتے تھے۔الفاظ اس کیفیت کو بیان کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے اور قلم اس کو حیطہ تحریر میں لانے سے معذور اور قاصر ہیں۔جب حضور انور نے ساری جماعت احمد یہ عالم گیر کو کھڑے کروا کر دوسری صدی کے آغاز پر عہد وفائے خلافت لیا تو اس عہد میں شامل ہونے والے ہر فرد کی دنیا ہی بدل گئی۔گویا ہم سب اندر تک دھل چکے تھے اور ایک نئے جوش و جذبے اور روحانی کیفیات کے عسل مصفی میں غوطہ زن تھے۔جب خلافت خامسہ کا انتخاب ہوا تھا تو ہماری کیفیت کچھ یوں تھی گویا: کچھ اُس کے دیپک جلتے تھے بجھ جاتے تھے تو ہوش کے پچھی اُڑتے تھے اڑ جاتے تھے اور کربل کربل سینے میں کچھ ایسی تھی دل خون اور اشک اُبلتے تھے پھر اس کے نخلستان بہ جاتے تھے ہونے کو تھے ہرے ہم سوکھ چکے تھے ہرے بھرے ہونے کو تھے اویر اوتار اترنے والا تھا کھوٹے تھے ہم آج کھرے ہونے کو تھے پھر ہاتھ دیا تھا ہاتھوں میں خاموش ہوئے دل نے دل کی بیعت کی خاموش ہوئے ہر دھڑکن دھڑکن کچھ کہتی جاتی تھی اور ہم کہ تھے مدہوش ہوئے خاموش ہوئے دشمن ناخوش اور ہمیں مسرور ہوئے