تأثرات — Page 256
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء مسجد کی تصویر لگا کر لکھا: مشرقی برلن کی پہلی مسجد کا افتتاح مسجد کے افتتاح کا پروگرام پولیس کی حفاظت میں ہوا۔عبداللہ واگس ہاؤز رامیر جماعت نے قریباً سو اخباری نمائندوں کی موجودگی میں کہا کہ ہم دس سال تک برلن کی مسجد کی تعمیر کے لیے زمین کی تلاش کرتے رہے۔اب یہاں ہمیں مسجد بنانے کی اجازت ملی۔صوبہ برلن کے وزیر داخلہ Korting نے کہا کہ یہ مسجد امن و امان کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔مسجد کی خصوصیت میں ایک تیرہ میٹر اونچا مینار اور ایک گنبد شامل ہے۔تعمیر پر 1۔7 ملین یورولاگت آئی ہے جو صرف جماعت احمدیہ کی خواتین نے ادا کیے۔“ ہوئے کہا کہ: 231 الفضل انٹرنیشنل - 12 تا18 دسمبر 2008ء۔صفحہ نمبر 12) اسی اخبار نے شائع کیا کہ برلن کے لارڈ میئر نے مسجد خدیجہ کی تعمیر پر مبارک باد دیتے د مسجد ر واداری کی علامت ہے برلن صوبہ کے سر براہ اور لارڈ میئر Klaus Wowereit نے خدیجہ مسجد کی تعمیر پر جماعت احمدیہ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسجد ہمارے شہر میں مذہبی اور ثقافتی رواداری کی علامت ہے۔وہ خود اس افتتاح میں جرمنی کی چانسلر کے ساتھ عالمی مالیاتی بحران کے تعلق میں ایک میٹنگ کی وجہ سے شامل نہ ہو سکے۔افتتاح کے پروگرام میں دوسو مدعو سیاست دان، تمام بڑے بڑے مذاہب کے نمائندے، ہمسائے اور بیسیوں صحافی اور ٹیلی ویژن کے نامہ نگار شامل ہوئے۔جماعت کے عالمی سر براہ ،خلیفہ حضرت مرزا مسرور احمد لندن سے تشریف لائے۔آپ نے مہمانوں اور سیاست دانوں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے گزشتہ اڑھائی سالوں کے دوران مخالفت کے باوجود مسجد کی تعمیر کے منصوبے کی حمایت کی۔آپ نے کہا کہ ہماری جماعت جرمنی کی وفا دار ہے۔نیز مسجد کے مخالفین کے لیے بھی ہم دعا کریں گے کہ خدا کرے کہ آپ جماعت احمدیہ کے ممبران کو سچے جرمن شہریوں کے طور پر قبول کرنے والے بن جائیں۔جماعت احمدیہ کے جرمنی میں تیس ہزار ممبران ہیں۔“ الفضل انٹر نیشنل - 12 18 دسمبر 2008ء صفحہ نمبر (12)