تأثرات — Page 254
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 229 کہ مقامی احمدی جرمنی کے وفادار ہیں۔نیز آپ نے یقین دلایا کہ جماعت مسجد کے مخالفین کے لیے بھی دُعا کرے گی۔جرمنی کے آئینی تحفظ کے ادارہ (خفیہ ایجنسی ) کا بیان ہے کہ احمد یہ جماعت حکومت کے لیے کسی قسم کی فکر مندی کا باعث نہیں اور پر امن ہے۔“ الفضل انٹرنیشنل 12 تا 18 دسمبر 2008ء۔صفحہ نمبر 12،11) برلن کے سب سے مشہور اور سب سے زیادہ بکنے والا اخبار برلینز سائیٹنگ Berliner) (Zeitung نے شہ سرخی لگائی: مسجد برداشت کا مادہ رکھتی ہے خدیجہ مسجد کے افتتاح کے موقع پر برلن کے وزیر اعلیٰ نے احمدیوں کو مبارک باد دی ہے اور کہا ہے کہ یہ مسجد برداشت اور بردباری کی علامت ہے اور اس وصف کو ترجیح دینے میں مدد دے گی۔جرمن پارلیمنٹ کے نائب صدر نے علاقہ کے لوگوں سے احمدیوں میں ایک دوسرے کے لیے زیادہ برداشت اور مفاہمت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔احمدیوں کے پانچویں خلیفہ حضرت مرزا مسرور احمد نے اپنے خطاب میں مہمانوں کا اس بات پر شکریہ ادا کیا کہ باوجود مخالفتوں کے مسجد بنانے کی اجازت دی گئی۔انہوں نے اپنے فرقہ کے لوگوں کی جرمنی سے وفاداری پر بھی یقین دلایا اور مسجد کے مخالفین کے لیے بھی دُعائیہ کلمات کہے۔اسی طرح انہوں نے دُعا بھی کی اور اُمید بھی ظاہر کی کہ احمدیوں کو جرمن قوم کا حصہ سمجھا جائے گا۔ان کی تعداد جرمنی میں تمیں ہزار کے لگ بھگ ہے۔“ الفضل انٹر نیشنل - 12 تا 18 دسمبر 2008ء صفحہ نمبر (12) اخبار برلیز کو ریار (Berliner Kurier) نے لکھا: "برلن کے لارڈ میئر کی طرف سے مسجد کی تعمیر پر مبارک باد۔برلن کی صوبائی حکومت کے سربراہ لارڈ میئر Oberbregermeister نے جماعت احمد یہ کونئی مسجد کی تعمیر کے موقع پر مبارک باد دی۔انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات پر خوشی ہے کہ جماعت احمدیہ نے یہ نئی مسجد بنائی ہے۔یہ مسجد سابق مشرقی جرمنی (German Democratic Republic) کی سرزمین پر پہلی باقاعدہ مسجد ہے۔66 الفضل انٹر نیشنل - 12 تا 18 دسمبر 2008ء۔صفحہ نمبر 12)