تأثرات — Page 6
تأثرات_خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008 ء صد سالہ جوبلی کا استقبال اور دُعاؤں کی تحریک : 6 زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ جب 1989ء میں احباب جماعت نے جماعت احمدیہ کی صد سالہ جو بلی منائی تھی۔سب سے پہلا اور سب سے کارگر ہتھیار جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس زمانہ کے لیے دیا گیا اس کے مطابق ہمارے امام ہمام حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کی صد سالہ جو بلی کے لیے پہلے سے جماعت کو اُس وقت بھی بتا دیا تھا کہ دعائیں کریں اور کثرت کے ساتھ یہ دعائیں کریں۔اسی پاک نمونہ اور اُسوہ کو جاری رکھتے ہوئے ہمارے پیارے امام حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے پاک مسیح کی پیاری جماعت کو دعاؤں کی تحریک کی اور ایک جامع پروگرام دعاؤں اور عبادات کے حوالے سے عطا کرتے ہوئے تاکید فرمائی کہ خلافت احمد یہ حقہ اسلامیہ کی صد سالہ جوبلی کی تقریبات کے استقبال کے لیے خلوص نیت، اطاعت و وفاداری ، عاجزی اور انکسار کے ساتھ اس پروگرام پر عمل کریں تا کہ ہم بڑے بجز اور انکسار والے شکر کے جذبات کے ساتھ خلافت احمد یہ حقہ اسلامیہ کی دوسری صدی میں اس حال میں داخل ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظریں ہم پر پڑ رہی ہوں۔چنانچہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ دُعاؤں کے ذریعہ سے میری مددکریں اور میں ہر وقت آپ کے لیے دُعا گو رہوں کیونکہ جماعت اور خلافت لازم و ملزوم ہیں۔اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذمہ داریاں اس طرح ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس طرح وہ چاہتا ہے۔جب سب مل کر خلافت احمدیہ اور خلیفہ وقت کے لیے دعا کر رہے ہوں گے تو یہ چیز اللہ تعالیٰ کے بے انتہا فضلوں کو کھینچنے والی ہوگی کیونکہ امام اور جماعت کی دُعائیں ایک سمت میں چل رہی ہوں گی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اللہ تعالیٰ سے مانگ رہی ہوں گی۔“ صد سالہ خلافت احمد یہ جو بلی کمیٹی کا قیام: خطبہ جمعہ فرمودہ 6 اپریل 2007ء) اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو اپنی جناب سے ایک بابرکت نظام عطا فرمایا ہے یہی وہ بنیادی فرق ہے جو جماعت احمدیہ اور دیگر لوگوں میں ہے کہ جماعت کا ہر ایک کام اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ ایک حسن ترتیب کے ساتھ انجام پاتا ہے اور بفضلہ تعالیٰ انجام بخیر کو پہنچتا ہے۔اسی نظام کے تحت حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے خلافت جوبلی منانے اور اس کے تمام پروگراموں کو بہترین طریق پر سرانجام دینے کے لیے با قاعدہ ایک مرکزی کمیٹی تشکیل دی جس کے صدر کے طور پر مکرم محترم چودھری حمید اللہ صاحب وکیل