تأثرات

by Other Authors

Page 232 of 539

تأثرات — Page 232

تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء مسجد مبارک فرانس کا افتتاح: 207 10 اکتوبر 2008ء کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے نماز جمعہ کے ساتھ مسجد مبارک فرانس کا افتتاح فرمایا۔فرانس کے نیشنل ٹی وی TV-F3 کی ٹیم بھی اس افتتاحی تقریب کی کوریج (Coverage) کے لیے مشن ہاؤس پہنچی۔فرانس کے ایک اور ٹی وی 24 France کی ٹیم بھی ریکارڈنگ کے لیے پہنچی ہوئی تھی۔اس علاقہ (Saint Prix) کے میئر جناب Jean-Pierre Enjalbert بھی اس تقریب میں شمولیت کے لیے تشریف لائے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ دو بجے اپنی رہائش گاہ سے باہر تشریف لائے اور جمعہ کی نماز کی ادا ئیگی اور افتتاح کے لیے مسجد کی طرف قدم رنجہ ہوئے جہاں جناب میئر صاحب کو شرف مصافحہ بخشا اور افتتاحی سختی کی نقاب کشائی فرمائی۔ایم ٹی اے پر یہ سارے تاریخ سازلحات براہ راست دکھائے جارہے تھے۔افتتاحی تقریب کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ مسجد کے اندر تشریف لے گئے اور خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔خطبہ جمعہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: الْحَمْدُ لِلَّهِ ! اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ فرانس کو بھی پہلی مسجد بنانے کی توفیق عطا فرمائی۔اللہ کرے کہ یہ مسجد مزید مسجدوں کے لیے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہو۔ملکی قوانین بھی راہ میں حائل نہ ہوں اور احباب جماعت کے اندر بھی مساجد کی تعمیر کے لیے قربانیوں کا شوق مزید بڑھے اور تعمیر کے لیے صرف شوق ہی نہیں بلکہ وہ روح بھی پیدا ہو جس سے وہ مساجد کی تعمیر کے مقاصد کو پورا کرنے والے ہوں۔اس مسجد کی تعمیر نے یقیناً افراد جماعت کو یہ سبق دیا ہو گا کہ اگر ارادہ پختہ ہو اور لگن سچی ہو تو وقت آنے پر خدا تعالیٰ اپنے فضل سے تمام روکیں دُور فرما دیتا ہے۔یہ جگہ جہاں اب یہ خوب صورت مسجد تعمیر کی گئی ہے گو میناروں وغیرہ کی اونچائی کے بارہ میں کونسل نے علاقہ کے لوگوں کے شور مچانے پر یہاں بعض پابندیاں عاید کی ہوئی ہیں لیکن کم از کم اس جگہ مسجد کے نام کے ساتھ ہمیں ایک پراپر (Proper) مسجد بنانے کی اجازت تو ملی اور موجودہ ضرورت کے لحاظ سے عورتوں اور مردوں کو نمازیں ادا کرنے کے لیے جمعہ پڑھنے کے لیے جگہ میسر آگئی۔الفضل انٹر نیشنل۔7 تا 13 نومبر 2008ء صفحہ نمبر 2) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کی تعمیر میں حائل رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اس جگہ پر جیسا کہ آپ جانتے ہیں پہلے ایک عارضی ہال تھا جس میں نمازیں پڑھی جاتی تھیں۔علاقہ کے لوگوں کے اکثر اعتراض بھی آتے رہتے تھے یہاں تک کہ ایک وقت