تأثرات

by Other Authors

Page 216 of 539

تأثرات — Page 216

تأثرات_خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء (Conscious) ہو گئی ہے توجہ دے رہی ہے یہاں جرمنی میں بھی کہ یہاں کا جلسہ کسی بھی لحاظ سے کسی دوسرے ملک کے جلسوں سے کم نظر نہ آئے اور خاص طور پر افریقہ کے جلسوں میں گھانا کے جلسہ نے خاص طور پر لوگوں کی توجہ اپنی طرف پھیری ، بہر حال اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ اس سال کا میرا تو ساتواں جلسہ ہے جس میں میں شامل ہوا ہوں۔جرمنی کا جلسہ ہر سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی کامیابی سے منعقد ہوتا ہے اور اُمید ہے انشاء اللہ تعالیٰ اس سال پہلے سے بڑھ کر ہو گا اور ہر فر د جو اس جلسے میں شامل ہو رہا ہے اس جلسے کی رُوح کو سمجھتا رہا تو خود بھی اس جلسے سے فیض اٹھانے والا ہوگا اور مجموعی طور پر جلسے کی کامیابی کا باعث بھی بنے گا۔“ من ہائم کے لارڈ میئر کا خطاب: 191 الفضل انٹر نیشنل۔17 تا 23 اکتوبر 2008ء صفحہ نمبر 10) جلسہ سالانہ کے تیسرے روز من ہائم کے لارڈ میئر نے جلسہ سالانہ میں شرکت کی اور حاضرین سے خطاب کیا۔انہوں نے جلسہ سالانہ اور بالخصوص خلافت جو بلی جلسہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا: معزز خلیفہ ! امیر صاحب اور تمام مہمانان کرام جو یہاں پر حاضر ہیں میں بہت خوشی سے سب کا شکر گزار ہوں کہ مجھے یہاں موقع دیا گیا ہے اور اب تو یہ ایک قسم کی روایت ہو گئی ہے۔مجھے علم ہے کہ آپ کا اس سال کا جو جلسہ سالانہ ہے وہ بڑی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔آج سو سال آپ کی خلافت کو قائم ہوئے ہو گئے ہیں یعنی آپ کی جماعت کے بانی ( حضرت ) مرزا غلام احمد (علیہ السلام ) جو تھے وہ 1908ء میں فوت ہوئے۔اس وقت سے جماعت میں خلافت کا نظام قائم ہے اور میں اس موقع پر خلیفہ حضرت مرزا مسرور احمد کا خصوصی طور پر استقبال کرتا ہوں۔مجھے علم ہے کہ وہ یہاں اس سے پہلے بھی متعدد بار تشریف لاچکے ہیں۔میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ نے اُس جگہ کا جو انتخاب کیا ہے اُس میں بڑی پرانی روایت شامل ہے۔ساڑھے تین سو سال قبل جب یورپ میں جنگ کے نتیجہ میں یہاں جو مذاہب تھے وہ ایک دوسرے سے پھٹ چکے تھے تو اس شہر نے ان تمام مذاہب کو خوش آمدید کہا، استقبال کی اس روایت میں بھی ہم آپ کا آج استقبال کرتے ہیں۔ہمارے شہر کی آبادی تین لاکھ بیس ہزار ہے، ایک سو ساٹھ مختلف اقوام کے افراد رہتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ ان تمام مذاہب کے افراد خوشی کے ساتھ یہاں قبول کئے جائیں اور