تأثرات — Page 115
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء لگا تا ہوا، غریب اقوام کے غریب عوام کی خدمت کرتے ہوئے ، انہیں رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرتا چلا گیا۔۔پھر وہ وقت آیا کہ الہبی تقدیر کے ماتحت حضرت خلیفہ مسیح الثالث رحم اللہ بھی اپنے پیدا کرنے والے کے حضور حاضر ہو گئے۔پھر اندرونی اور بیرونی فتنوں نے سر اُٹھایا لیکن خدائی وعدہ کے مطابق جماعت احمدیہ کو خلافت رابعہ کی صورت میں تمکنت دین عطا ہوئی۔ہر فتنہ اپنی موت آپ مر گیا۔ظالمانہ قانون کے تحت ہاتھ پاؤں باندھنے والوں اور احمدیت کے کینسر کو ختم کرنے کا دعوی کرنے والوں کو خدا تعالیٰ نے نیست و نابود کر دیا۔پاکستان میں ظالمانہ قانون کی وجہ سے خلیفہ وقت کو ہجرت کرنا پڑی لیکن یہ ہجرت جماعت کی ترقی کی نئی منازل دکھانے والی بنی۔ایک بار پھر غَرَسُـتُ لَكَ بِيَدِی کا وعدہ ہم نے پورا ہوتے دیکھا۔تبلیغ کی وہ راہیں کھلیں جو ابھی بہت دُور نظر آتی تھیں۔خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کیے گئے وعدے کو کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔خلافت رابعہ کے دور میں MTA کے ذریعہ سے یوں پورا ہوتا دکھایا کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔اگر ہم اپنے وسائل کو دیکھیں اور پھر اس چینل کے اجراء کو دیکھیں تو ایمان والوں کے منہ سے بے اختیار اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کے الفاظ نکلتے ہیں۔اسی چینل نے آج مشرق سے لے کر مغرب تک اور شمال سے لے کر جنوب تک ہر مخالف احمدیت کا منہ بند کر دیا ہے۔پس وہی لوگ جو خلیفہ وقت کو عضو معطل کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے اُن کے گھروں کے اندر MTA نے اُس مرد مجاہد کی آواز پہنچادی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام اور خدا تعالیٰ کی آخری شرعی کتاب قرآن کریم کا آسمانی مائدہ آج ہر گھر میں اللہ تعالیٰ کی تائید سے پہنچ گیا ہے۔پھر كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ کے قانون کے مطابق حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ کی وفات کے بعد ایک دُنیا نے دیکھا اور MTA کے کیمروں کی آنکھ نے سیٹلائٹ کے ذریعہ ایک نظارہ ہر گھر میں پہنچایا۔وہ نظارہ جو اپنوں اور غیروں کے لیے عجیب نظارہ تھا۔اپنے اِس بات پر خوش کہ خدا تعالیٰ نے خوف کو امن میں بدلا اور غیر اس بات پر حیران کہ یہ کس قسم کے لوگ ہیں؟ یہ کیسی جماعت ہے؟ جسے ہم سو سال سے ختم کرنے کے درپے ہیں اور یہ آگے بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ایک مخالف نے بر ملا اظہار کیا کہ میں تمہیں سچا تو 105