تأثرات — Page 108
تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء ظہور عون ونصرت دم بہ دم ہے: 98 اللہ تعالیٰ کے غیر معمولی انوار و افضال موسلا دھار بارش کی طرح جماعت احمدیہ پر برس رہے ہیں۔مئی 2008 ءوہ تاریخی مہینہ اور 27 مئی 2008 ء وہ تاریخی دن ہے جس کا انتظار اگر محبانِ خلافت راشدہ حقہ کو تھا تو دوسری طرف معاندین و مخالفین احمدیت کو بھی تھا کیونکہ جماعت احمدیہ کی ترقی اُن کو تو ایک آنکھ نہیں بھاتی لیکن اللہ تعالیٰ نے جو نظارے دکھائے اور مسلسل دکھاتا چلا جا رہا ہے اُن کے مطابق ہمارے لیے تو یہ کیفیت ظہور پذیر ہے کہ: ظهور عون نصرت دوم ہے اور دشمنوں اور حاسدوں کے لیے رُسوائی اور ذلت اور نکبت کے سوا کچھ بھی نہیں لکھا ہوا۔گویا دشمنانِ احمدیت کی یہ حالت ہے کہ: حسد دشمنوں کی پشت خم ہے دشمن کو خبر نہیں کہ یہ معاندانہ کارروائیاں احمدیوں کے خلاف نہیں بلکہ خود خدائے بزرگ و برتر کے خلاف ہیں کیونکہ وہی ذات والا ہے جس نے خلافت جیسی عظیم نعمت جماعت احمدیہ کو عطا فرمائی ہے اور اب اپنے وعدوں کے مطابق برکات خلافت سے احمدیوں کی جھولیاں بھر رہا ہے اور مسلسل بھرتا چلا جارہا ہے۔ہمیں تو ہمارے پیارے امام نے یہی نصیحت فرمائی ہے کہ ہم صبر سے کام لیں اور معاندین کے بارے میں فرمایا کہ: گزشتہ ایک سو بیس سال سے انہوں نے اپنی ہر طرح کی مخالفت کر کے دیکھ لی ہے۔بے شک ہمیں عارضی تکلیفیں تو برداشت کرنی پڑیں لیکن ان کی خواہشات کبھی پوری نہیں ہوئیں کہ جماعت کو ختم کر دیں۔ایک آمر نے اعلان کیا کہ میں ان کے ہاتھ میں کشکول پکڑاؤں گا تو خود اُس کا انجام ظاہر وباہر ہے لیکن جماعت احمد یہ انفرادی طور پر بھی اور جماعتی طور پر بھی مالی وسعت اختیار کرتی چلی گئی۔دوسرے نے جب جماعت کو کچلنا چاہا، ہر لحاظ سے معذور کرنا چاہا تو اس کا انجام بھی ہم نے دیکھ لیا اور جماعت کے لیے ترقی کی نئی سے نئی راہیں کھلتی چلی گئیں۔،، ( خطبه جمعه فرمودہ حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ 13 جون 2008ء الفضل انٹر نیشنل 4 تا 10 جولائی 2008ء صفحہ 8 ) انڈونیشیا میں جماعت کی تبلیغی مساعی کو روکنے کی مذموم کوششوں اور مظالم کے جواب میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پاکستان میں جو پابندیاں لگیں یا قانون پاس ہوئے اُس سے کون سا اُنہوں نے جماعت کو پھیلنے سے روک دیا؟ دُنیا بھر میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش پہلے سے بڑھ کر