تأثرات — Page 50
تأثرات_خلافت احمدیہ صد سالہ جو بلی تقریبات 2008ء 44 حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تصویر بنوائی اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ پکڑ کر دیر تک ہلاتے رہے اور کہا که "I want to see you once more in Benin" کہ میں ایک بار پھر آپ کو بین میں دیکھنا چاہتا ہوں۔یوں سلامتی اور محبت کے بھر پور جذبات کے ساتھ یہ ملاقات اختتام کو پہنچی۔صدر مملکت سے ملاقات کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے پریس اور میڈیا کو مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے صدر مملکت سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: یہ ایک غیر رسمی (Courtesy) ملاقات تھی اور ہم نے بیٹن میں جماعت کی سوشل خدمات کے سلسلہ میں جاری منصوبوں پر بات چیت کی۔میں نے اس ملک کا چار سال قبل بھی دورہ کیا تھا اور پھر سے امسال مجھے دورہ کرنے کا موقع مل رہا ہے۔میں نے یہاں پر بہت سی خوشکن تبدیلیاں پائی ہیں۔عوام کی بہتری کے لیے ہمیں کام کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔اس وقت جاری منصوبوں میں مساجد ، سکولوں اور ہسپتالوں کی تعمیر ہے اور پھر دور دراز علاقوں میں جہاں لوگوں کی رسائی بہت کم ہوئی ہے ہمارا Water For Life کا منصوبہ جاری ہے جس کے مطابق ہم ناکارہ نلکوں کو دوبارہ مرمت کر کے عوام کو پینے کا پانی مہیا کرنے کے قابل بنا رہے ہیں۔یہ ساری خدمات ہم کسی انسان کے لیے نہیں کر رہے صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے کر رہے ہیں۔“ الفضل انٹر نیشنل 6 تا 12 جون 2008 صفحہ 10) جلسہ سالانہ بینن (Benin): 24 اپریل 2008ء کو بین کے جلسہ سالانہ کا آغاز ہوا۔تلاوت قرآن کریم اور کلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد ملک کی سرکردہ شخصیات نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں اپنی معروضات پیش کیں۔ان سرکردہ شخصیات میں مندجہ ذیل اہم شخصیات شامل ہیں: -1 بین انٹر کلچر کمیٹی کے صدر پادری Esaik Daoudou نے اپنے خطاب میں جماعت احمدیہ کی امن کوششوں کو سراہا اور اپنے بھر پور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو خوش آمدید کہا اور بینن میں بہترین قیام اور بخیر و عافیت واپسی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔موصوف نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی بین آمد کو افریقہ کے تمام احمدیوں کے لیے باعث فخر قرار دیا۔”مسجد المہدی“ کے افتتاح اور صد سالہ جو بلی کے سلسلہ میں مبارک باد پیش کی اور بے حد خوشی کا اظہار کیا۔