تأثرات

by Other Authors

Page 51 of 539

تأثرات — Page 51

-2 45 تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء بادشاہوں کے سیکریٹری جنرل نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کو بینن کے تمام بادشاہوں کی طرف سے خوش آمدید کہتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ بینن کے تمام بادشاہ کثیر تعداد میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے استقبال کے لیے حاضر ہوئے تھے اور آج جلسہ میں بھی موجود ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بینن کے تمام بادشاہ احمدیت کی تائید کرتے ہیں اور احمدیت کی تمام خدمات کو سراہتے ہیں۔اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی آمد کے ساتھ ہی بارشوں کا آنا خدا کے فضلوں کی نشان دہی کرتا ہے۔آج میرے ذریعہ بین کے تمام بادشاہ عہد کرتے ہیں کہ ہمیشہ آپ کے ساتھ رہیں گے اور پہلے سے بھی بڑھ کر تعاون کریں گے تا کہ احمدیت ملک وقوم کی ترقی کا موجب بن سکے۔خدا کرے کہ حضور بخیر و عافیت یہاں قیام کریں اور پھر بخیر وعافیت اپنے گھر کو لوٹ سکیں۔پارلیمنٹیرین گروپ کے لیڈر نے اپنے خطاب میں کہا کہ : -3 میں ممبر آف پارلیمنٹ کی حیثیت سے یہ شہادت دیتا ہوں کہ جماعت احمد یہ بہین میں انسانیت کی بے لوث خدمت میں پیش پیش ہے۔پینے کا پانی مہیا کرنے کے لحاظ سے جماعت احمدیہ کی خدمات قابل ستائش ہیں۔امن کے قیام کے لیے جماعت احمدیہ کی کوششوں کی تعریف کیے بغیر نہیں رہا جا سکتا اور خصوصاً اس وجہ سے ہم ان سے وابستہ ہیں اور ہمیشہ وابستہ رہیں گے۔“ -4 الفضل انٹر نیشنل 6 تا 12 جون 2008 صفحہ 11) امن عالم کے سلسلہ میں کام کرنے والے ایک ادارہ کی صدر خاتون نے کہا: میں بین کی تمام عورتوں کی طرف سے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں خوش آمدید کہتی ہوں۔خدا کرے کہ ہمارا معاشرہ ہمیشہ امن کا گہوارہ رہے اور ہر دم ہمیں خوشیاں عطا ہوں۔“ خطاب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ : الفضل انٹر نیشنل 6 تا 12 جون 2008 صفحہ 11) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطاب میں احباب جماعت کو اللہ تعالیٰ کی عبادات میں نماز، مالی قربانی اور روزہ کے ساتھ ساتھ مختلف اخلاق فاضلہ کی طرف توجہ دلائی اور انہیں اپنانے کی تلقین کی۔اُن اخلاق میں عاجزی اور تقوی ، بدظنی سے پر ہیز، تجسس اور ٹوہ میں لگے رہنے سے بچنا، غیبت نہ کرنا، جھوٹ نہ بولنا، اپنے عہدوں اور امانتوں کی حفاظت اور حق ادا کرنا اور اللہ، رسول اور حکام کی اطاعت اختیار کرنا ہے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: