تأثرات — Page 14
تأثرات_خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء 14 18 تمام ممالک اپنے اپنے ملک کی تمام پرانی جماعتی تصاویر کی سی ڈی تیار کریں اور ہر تصویر کے ساتھ اس کا تعارف بھی دیا جائے اور یہ سی ڈی ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن کو بھجوائی جائے۔19 افریقن ممالک جائزہ لے کر بتائیں کہ کہاں کہاں جماعتی ریڈ یوٹیشن کھولنے مفید رہیں گے؟ کیا ملکی قانون اس کی اجازت دیتا ہے؟ اپنے ملک میں کس علاقہ کے لوگوں کو ٹارگٹ کرنا چاہتے ہیں؟ ریڈ یوٹیشن پر کس قدر اخراجات اُٹھیں گے اور ریڈیوٹیشن کی Frequency اور Range کیا ہونی چاہیے؟ خلافت جوبلی تقریبات میں دیگر احباب کو شامل کرنے کے لیے ان سے روابط بڑھائے 20 جائیں تا کہ انہیں پروگراموں میں شامل کیا جا سکے۔21 22 جماعت میں جماعتی اصطلاحات کو درست ہجوں کے ساتھ کثرت سے رواج دیا جائے۔زکوۃ کی ادائیگی اور خلافت کا باہمی تعلق احباب جماعت پر واضح کیا جائے اور تحریری اور تقریری طور پر اس کی اہمیت واضح کی جائے۔23 24 بجٹ۔ہر ملک خلافت احمد یہ صد سالہ جو بلی کے لیے آمد و خرچ کا بجٹ بنائے۔خلافت احمدیہ صد سالہ جو بلی شکرانہ فنڈ۔صد سالہ خلافت جو بلی کے بابرکت موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں بطور شکرانہ کچھ رقم پیش کی جائے۔مرکزی کمیٹی نے اس کے لیے مبلغ دس لاکھ پاؤنڈ کی رقم تجویز کی کہ ہر ملک اس میں مخصوص رقم ادا کر کے حصہ لے۔خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی شکرانہ فنڈ: مرکزی کمیٹی نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ اس تاریخی موقع پر عالم گیر جماعت احمدیہ کے جملہ احباب اپنی اپنی استطاعت کے مطابق ایک مخصوص رقم جمع کر کے حضور انور کی خدمت اقدس میں بطور تحفہ پیش کریں جسے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی منشا کے مطابق خرچ کریں۔چنانچہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے از راہ شفقت اس تجویز کو منظور فرما لیا اور حضور انور کی منظوری سے چندہ کی اس مد کا نام ” خلافت احمد یہ صد سالہ جو بلی شکرانہ فن رکھا گیا۔اس فنڈ میں حضور انور کی خدمت میں بہ طور ہدیہ پیش کرنے کے لیے مرکزی کمیٹی نے کم از کم دس لاکھ پاؤنڈ کی رقم تجویز کی۔علاوہ ازیں خلافت احمد یہ صد سالہ جو بلی منصوبہ کے جملہ پروگراموں پر عمل درآمد کے لیے غیر معمولی اخراجات کی بھی ضرورت پڑنا تھی اس لیے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی منظوری سے یہ فیصلہ ہوا کہ ہر ملک اپنے بجٹ کے دس فیصد کے برابر رقم اس غرض کے لیے مختص کرے۔یہ رقم تین مالی سالوں یعنی 06-2005ء، 2006-07ء اور 08-2007ء میں بجٹ کی بچت کی صورت میں اور احباب جماعت سے عطایا کے ذریعہ وصول ہونے والی رقم کی صورت میں جمع کی جائے۔