تأثرات — Page 102
تأثرات_خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء ہمارا فرض ہے اور اسلام کا حکم ہے لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ مخالفت بھی خدا تعالیٰ کی نقد ی تھی کیونکہ اس ممبر اسمبلی کے اس سوال کو اخباروں اور میڈیا نے خوب اچھالا اور آج کل تو انٹر نیٹ پر ہر قسم کی ویسے بھی خبر آتی ہے اور اس پر بحث شروع ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں میں سے بے شمار لوگوں کو اس بات کے خلاف کھڑا کر دیا۔ایک بحث شروع ہو گئی کہ ایک طرف تو ہم سیکولر ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور دوسری طرف اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔یہودیوں نے بھی سوال اٹھا دیا کہ ہم بھی عیسی علیہ السلام کو خدا نہیں مانتے بلکہ یہ لوگ تو مخالفت میں بھی بہت زیادہ بڑھے ہوئے ہیں۔پتہ نہیں حضرت عیسی علیہ السلام کے بارہ میں کیا کچھ کہہ جاتے ہیں۔سیاسی مقاصد کے لیے بے شک یہ لوگ آج کل چپ ہوں لیکن دل تو ان کے خلاف ہیں۔جبکہ ہم احمدی حضرت عیسی علیہ السلام کو قابل احترام نبی مانتے ہیں۔بہر حال ان یہودیوں نے بھی سوال اُٹھایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا بھی امریکہ میں رہنے اور آزادی کا حق سلب کرنے کی آئندہ کوششیں ہوں گی۔اس بات پر خیال آیا کہ یہودیوں نے جو ہمارے حق میں بیان دیا ہے تو شاید مولوی یہ شور مچائے کہ دیکھو ہم پہلے ہی کہتے تھے کہ قادیانی اور یہودی ایک ہیں لیکن وہ اس بات کو بھول جائیں گے کہ ہماری مخالفت اگر ہے تو اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے ایک عاجز بندے کو ہم خدا نہیں مانتے۔تو بہر حال یہ ان مخالفین کا کام ہے، مولوی کا کام ہے کیسے جائیں یہی 96 ان سے توقع ہے۔“ (خطبہ جمعہ حضرت خلیفہ اسح الخامس 25 جولائی 2008 ء الفضل انٹرنیشنل 25 جولا ئی ت07 اگست 2008ء صفحہ نمبر 24) 25 جولائی 2008 ء کے خطبہ جمعہ میں جلسہ سالانہ امریکہ کا ذکر کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: امریکہ کے احمدیوں کے بارے میں بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں۔پتہ نہیں کیوں دوسری دنیا کے احمدیوں کو یہ خیال تھا کہ وہاں کے جلسہ میں وہ جوش اور رونق نہیں ہوگی جو باقی دنیا میں نظر آتی ہے۔اکثر خطوں میں جواب بھی مجھے آرہے ہیں اس کا ذکر ہوتا ہے۔شاید اس لیے یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ جو عمومی تاثر امریکہ کے بارے میں ہے اس میں ہمارے احمدی بھی رنگے گئے ہوں گے کیونکہ کافی تعداد وہیں پلے بڑھے نو جوانوں کی ہے لیکن ایک تو یہ عمومی تاثر عوام کے بارہ میں بھی غلط ہے۔عمومی طور پر وہاں کے عوام بہت اچھے ہیں اور جہاں تک احمدی کا سوال ہے جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، وہ