تأثرات

by Other Authors

Page 101 of 539

تأثرات — Page 101

تأثرات_خلافت احمد یہ صد سالہ جوبلی تقریبات 2008ء آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ہے کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔یہ بھی ہم دنیا کے ہر ملک اور براعظم میں پورا ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس سال خلافت احمدیہ کے سوسال پورے ہونے پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوای اور جماعت کے تعارف کی دنیا میں ایسی ہوا چلائی ہے جو خدا تعالیٰ کے خاص فضل سے ہی ہے اس کے بغیر ممکن نہیں تھا۔یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو آپ علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام پہنچا رہا ہے ورنہ ہم تو جیسا کہ میں نے کہا کوشش بھی کرتے تو اس طرح جماعت کا تعارف اور آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کا اعلان نہ کر سکتے اور پھر خاص طور پر ان ملکوں میں جہاں اسلام کو ویسے بھی بڑی تنقید کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔امریکہ میں اس کے پورا ہونے کا مشاہدہ ہم نے اس طرح کیا اور یقیناً ہر غور کرنے والے دل نے اس بات کو محسوس کیا ، پنسلوانیا کے شہر اور دارالحکومت ہیرس برگ (Harrisburg) جہاں ہمارا جلسہ سالانہ ہوا، اس سال جیسا کہ میں نے کہا کہ خلافت جو بلی کے حوالے سے کچھ شہرت بھی جلسے کو ملی بلکہ یہ کہنا چاہیے جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ہوا چلائی کہ اس حوالے سے جماعت کا تعارف ہوا۔تو بہر حال یہاں کی سٹیٹ اسمبلی نے کھلے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بعض ممبران کے کہنے پر جماعت کو اس شہر میں جلسے کے حوالے سے خوش آمدید کہنے اور خلافت کے سو سال پورے ہونے پر مبارک باد دینے کے لیے ریزولیوشن پاس کرنے کا فیصلہ کیا لیکن وہاں اسمبلی کے ایک ممبر نے اس پہ اعتراض اٹھایا کہ یہ نہیں ہوسکتا۔کوئی کثر عیسائی تھا، ویسے بھی امریکہ میں یہاں کی نسبت عیسائیت کے معاملے میں کافی بڑی تعداد میں سختی اور کٹر پن ہے۔بہر حال اس نے ریزولیوشن کی مخالفت کی۔یہاں یہ واضح کر دوں کہ ہماری طرف سے اس بارہ میں کوشش نہیں کی گئی تھی کہ ہمارے سوسالہ فنکشن کے موقع پر ہواور خلیفہ وقت آ رہا ہے اس لیے یہ ہونا چاہیے۔ان لوگوں میں سے چند کو خود ہی خیال آیا اور توجہ پیدا ہوئی اور انہوں نے اسمبلی میں پیش کیا۔تو میں کہہ رہا تھا کہ ایک ممبر نے مخالفت کی اور اس دلیل کے ساتھ مخالفت کی کہ کیونکہ یہ لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا نہیں مانتے اس لیے کوئی جواز نہیں کہ ان کو خوش آمدید کہا جائے۔اس سے یہ کہلوانا بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے تھا کیونکہ اگر یہ خاموشی سے ہو جاتا تو یا اسمبلی کو پتہ ہوتا یا ہمارے پاس ایک کاغذ کا ٹکڑا آجاتا یا ہلکی سی ایک اخبار میں خبر لگ جاتی۔اخلاقا تو ہم ان کے ممنون ہوتے کہ انہوں نے ہماری پذیرائی کی اور یہ اخلاق دکھانا اور شکریہ ادا کرنا بھی 95