تصدیق براھین احمدیہ — Page 59
تصدیق براہین احمدیہ ۵۹ نے بیان کیا۔کورس یا خورس کا تسلط پچھتم زمین پر ہوا۔اول تو دانیال ۸ باب ۴ میں ہے۔”میں نے اس مینڈے کو دیکھا کہ پچھتم اتر دکن کو سینگ مارتا ہے، دوم تواریخ ایران پر نظر ڈالو۔اس واقعہ کے مفصل حالات اس میں ملیں گے۔قلنا ييُذَا الْقَرْنَيْنِ إِمَّا أَنْ تُعَذِّبَ وَإِمَّا أَنْ تَتَّخِذَ فِيهِمُ حُسُنَّا قَالَ أَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبَهُ ثُمَّ يُرَدُّ إِلَى رَبِّهِ فَيُعَذِّبُهُ عَذَابًا نُّكْرًا وَأَمَّا مَنْ أَمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُ جَزَاءِ الْحُسْنَىٰ ۚ وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنَا يُسْرًا (الكهف: ۸۹۸۷) تفسیر۔غرض ماد اور فارس کی سلطنت جب بلا دشام پر فتحیاب ہوئی تو اس کے بادشاہ نے حسب وحی الہی اور الہام خداوندی وہاں بروں کو سزا اور نیکوں کو انعام دیئے۔اگر کسی کو یہود اور عیسائیوں سے جو قصے کے مخاطب ہیں اس کی نیکی اور بزرگی بلکہ ملہم ہونے میں کلام ہو تو وہ عزرا کی کتاب دیکھے۔شاہ فارس خورس یوں فرماتا ہے کہ خداوند آسمان کے خدا نے زمین کی سب مملکتیں مجھے بخشیں اور مجھے حکم کیا ہے۔عز راباب ۱۔۲۔اس سے یہ ظاہر ہے کہ حسب کتب مقدسہ وہ حکم الہی کا پابند اور مملکتوں کا بادشاہ تھا۔تم اتَّبَعَ سَبَبًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلَى قَوْمٍ نَّمُ نَجْعَلْ لَهُمْ مِنْ دُونِهَا سِتْرًا كَذَلِكَ وَقَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَيْهِ خُبْرًا (الكهف : ۹۰ تا۹۲) تفسیر۔جب خورس بلوچستان میں پہنچا تو وہاں کے لوگ بے خانماں پائے جن کی چھت آسمان اور بستر زمین تھا یہ لوگ جب بالکل خانہ بدوش جنگلی تھے۔م اتَّبَعَ سَبَبًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ بَيْنَ السَّدَّيْنِ وَجَدَ مِنْ دُونِهِمَا قَوْمًا لَا يَكَادُونَ ہم نے کہا اے ذوالقرنین تو دوطرح کا برتاؤ کر یا سزادے اور خسروانہ رحم کر یعنی سزا کے لائقوں کو سزا اور رحم کے لائقوں پر رحم کر اس نے کہا ظالموں کو ہم سزا دیں گے پھر اپنے رب کے ہاں جا کر ان پر سخت عذاب ہوگا۔پر مومن اور نیکو کار کے لئے نیک بدلہ ہے اور ہم بھی اس سے حسن سلوک سے پیش آویں گے۔ے پھر وہ ساز و سامان کر کے روانہ ہوا جب پورب میں پہنچا وہاں سورج کے تلے ایسے لوگ پائے جن پر سورج کے سوا کسی چھت کا سایہ نہ تھا۔ایسا ہی تھا اور ذوالقرنین کے لاؤلشکر کا حال ہم کو خوب معلوم ہے۔سے پھر سامان کیا اور وہ دو خاص پہاڑوں کے درمیان پہنچا۔اور ان پہاڑوں کے ورے ایک ایسی قوم کو پایا جو بات سمجھنے میں کمزور تھی۔